الجواب باسم ملہم الصواب
صورت مسئولہ میں شوہر کے ان الفاظ ” کہ اگر تم نے اپنے معاملات گھر کو لے کر نہ درست کیے تو تم میری طرف سے فارغ ہو ” سے ایک طلاق بائنہ واقع ہو گئی ، اور پانچ ، چھ ماہ بعد جتنے بھی الفاظ کہے ان سے کچھ بھی واقع نہیں ہو گا ، کیونکہ پانچ ، چھ ماہ میں عموما عورت کی عدت ( تین حیض ) گزر جاتی ہے اور عدت گزرنے کے بعد مزید طلاق واقع نہیں ہو گی ، لہذا باہمی رضا مندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے ۔
لما فی الھدایة : ( 2 / 364 ، رشیدیہ )
و اذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط مثل ان یقول لامراتہ ان دخلت الدار فانت طالق و ھذا بالاتفاق لان الملک قائم فی الحال الظاھر بقاءہ الی وقت وجود الشرط ، فیصح یمینا او ایقاعا.
و فی الھندیة: ( 1 / 420 ، رشیدیہ )
و اذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقا ، مثل ان یقول لامراتہ ان دخلت الدار فانت طالق
و کذا فی البحر الرائق للنسفی : ( 4 / 5 ، رشیدیہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/3/1440، 2018/11/15
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :54