سوال

میرےشوہر نےشادی کے ایک سال بعد ایک جھگڑ ے کے دوران یہ کہا کہ اگر تم نے اپنے معاملات گھر کو لے کر نہ درست کیے تو تم میری طرف سے فارغ ہو ، مطلب اگر گھر کی صفائیاں وغیرہ نہ ہوئیں تو تم فارغ ہو ، اور میں صفائیوں وغیرہ کے معاملات پر پورا اتر بھی نہ سکی ۔ پھر پانچ ، چھ ماہ بعد یوں کہا ” تم دو کشتیوں میں سوار نہیں ہو سکتی ، اگر تمہار ی خوشی ہے کہ تم نے اپنے گھر جانا ہے ، گھر والے بہت عزیز ہیں ، نہیں چھوڑ سکتی، تو تم جا سکتی ہو ، میری طرف سے تم پر کوئی پابندی نہیں ، تم آزاد ہو ” اور اس کے بعد بھی متعدد مرتبہ تم میری طرف سے فارغ ہو متعدد بار کہا ۔

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

صورت مسئولہ میں شوہر کے ان الفاظ ” کہ اگر تم نے اپنے معاملات گھر کو لے کر نہ درست کیے تو تم میری طرف سے فارغ ہو ” سے ایک طلاق بائنہ واقع ہو گئی ، اور پانچ ، چھ ماہ بعد جتنے بھی الفاظ کہے ان سے کچھ بھی واقع نہیں ہو گا ، کیونکہ پانچ ، چھ ماہ میں عموما عورت کی عدت ( تین حیض ) گزر جاتی ہے اور عدت گزرنے کے بعد مزید طلاق واقع نہیں ہو گی ، لہذا باہمی رضا مندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے ۔

لما فی الھدایة : ( 2 / 364 ، رشیدیہ )
و اذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط مثل ان یقول لامراتہ ان دخلت الدار فانت طالق و ھذا بالاتفاق لان الملک قائم فی الحال الظاھر بقاءہ الی وقت وجود الشرط ، فیصح یمینا او ایقاعا.
و فی الھندیة: ( 1 / 420 ، رشیدیہ )
و اذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقا ، مثل ان یقول لامراتہ ان دخلت الدار فانت طالق
و کذا فی البحر الرائق للنسفی : ( 4 / 5 ، رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
6/3/1440، 2018/11/15
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :54

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔