سوال

ميری آڑهت كی دكان ہے۔ ایک صاحب مجھ سے قرض لیتے رہتے ہیں،اور بسا اوقات کوئی سامان مثلا:راشن یا کھاد وغیرہ بھی میں خرید کر ان کو دیتا ہوں،پھر فصل آنے پر حساب کر لیتے ہے،اب ان صاحب کو پٹرول کی ضرورت ہے۔ایک پٹرول پمپ والے سے میرے معاملات پہلے ہی چل رہے ہیں،اگر میں یوں کروں کہ جب ان صاحب کو پٹرول کی ضرورت ہو تو میں پمپ والے کو پرچی لکھ دوںکہ ان صاحب کو مطلوبہ مقدار میں پٹرول دے دیں اور جو موجودہ ریٹ ہو اس پر فی لٹر 2روپے نفع ان صاحب سے لے لیا کروں، یہ صورت درست ہے یا نہیں،اگر نہیں تو کوئی اور آسان صورت بتلا دیں جس میں ان صاحب سے پٹرول پر نفع لے سکوں،کیونکہ انہوں نے ادھار خریدنا ہے اور میں نے نقد ادائیگی کرنی ہے۔

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

یہ صورت درست نہیں ہے،اس لیے کہ پٹرول آپ کے قبضے میں نہیں آیا اور کسی چیز کا قبضہ کرنے سے پہلے بیچنا جائز نہیں ہے،اس کی آسان صورت یہ ہے کہ آپ فروخت کرنے سے پہلے یا تو بذات خود آپ اس پر قبضہ کر لیں،یا اپنے وکیل کے ذریعے اس پر قبضہ کرائیں،یا آپ اس صاحب کو جو کہ خرید ار ہے قبضہ کرنے کا وکیل بنائیں وہ آپ کی طرف سےقبضہ کرے اور پھرآپ کو کسی ذریعے سے اطلاع کرے اس کے بعد آپ اس کو فروخت کریں۔

لما فی جامع الترمذی : (1/364،رحمانیہ)
عن حکیم بن حزام قال سالت رسولﷺ فقلت یاتینی الرجل، فیسئلنی من البیع ما لیس عندی ابتاع لہ من السوق ،ثم ابیعہ قال لا تبع ما لیس عندک
وفی الصحیح لمسلم:(2/5،قدیمی)
عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال قال رسولﷺ من ابتاع طعاما فلا یبعہ حتی یقبضہ،قال ابن عباس واحسب کل شیئ بمنزلۃ الطعام
وفی تنویر الابصار مع شرحہ: (5/147،سعید)
“(فلا یصح) اتفاقا ککتابۃ واجارۃو (بیع منقول) قبل قبضہ ولو من بائعہ۔”
وكذا في سنن ابي داود: (2/138،رحمانیہ) وکذا فی فتح القدیر:(6/471،رشیدیہ)
وکذا فی المستدرک:(2/171،قدیمی) وکذا فی البحر الرائق:(6/194،رشیدیہ)
وکذا فی فقہ البیوع:(1/333،معارف القرآن) وکذا فی مجمع الانھر:(3/113،المنار)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
12/6/1440،2019/2/18
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :7

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔