الجواب باسم ملھم الصوب
“جمعہ کی اذان ثانی کا جواب دینے میں علماء متقدمین ومتاخرین کا اختلاف ہے،کچھ علماء کی رائےیہ ہےکہ اذان ثانی کا زبان سےجواب دینا درست نہیں،ان کا استدلال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان”اذا خرج الامام فلاصلاۃولاکلام”کےعموم سےہےکہ امام خطبہ دینے کے لیے آجائے تو اب ہر طرح کی نمازاور بات چیت منع ہے۔
جبکہ متعددعلماءکرام کی رائےیہ ہے کہ جمعہ کی اذان ثانی کا جواب دینا جائزہے،اسے ناجائز نہیں کہا جا سکتا،ان کی دليل یہ ہے کہ بخاری شریف میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا اثر موجود ہے،کہ خوداس اذان کا جواب دیتے تھے۔
خلاصہ یہ ہےکہ جمعہ کی اذان ثانی کا جواب دینا جائز ہےاور دینے میں بھی کوئی حرج نہیں،چونکہ دونوں طرف فقہاءکرام ہیں ،اور دونو ں کے پاس دلائل موجود ہیں،مگردوسرے فریق کا موقف اس لیے مضبوط اور راجح ہے کہ اس کی تائید صحابی رسول کاتب وحی حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے عمل سے ہوتی ہے جبکہ دوسرے فریق کا اپنے نقطہ نظر پر استدلال نص سے نہیں بلکہ عموم نص سے ہے ۔
(ماخوذ از تبوب جامعۃالحسن ساہیوال:8 /100)
واللہ اعلم بالصوب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
14/6/1440، 2019-2-20
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :114