سوال

: مردوں کے لیے چاندی کی تسبیح استعمال کرنا کیسا ہے؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

مردوں اورعورتوں دونوں کے لیے چاندی کی تسبیح استعمال کرنا جائز نہیں۔

لما فی الفتاوی الھندیۃ:(5/334،الرشید)
وکذا لا یجوز الاکتحال بمیل الذھب والفضۃ وکذا المکحلۃ وکل ماکان یعودالانتفاع بہ الی البدن کذا فی السراج الوھاج ….. یکرہ الجلوس علی کرسی الذھب والفضۃ والرجال والمراۃ فی ذلک سواء یکرہ النظر فی المرآۃ المتخذ ۃمن الذھب او الفضۃ و ٰیکرہ ان یکتب بالقلم المتخذ من الذھب اوالفضۃ او من دواۃ کذلک ویستوی فیہ الذکروالانثی۔
وکذا فی تنویرالابصار مع شرحہ:(6/341 ، سعید)
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(5/327 ، الطارق)
وکذا فی التاتارخانیہ:(18/121 ، 120 ، فاروقیۃ)
وکذا فی خلاصۃ الفتاوی:(4/371 ، رشیدیۃ)
وکذافی تکملۃ البحر الرائق:(8/ 350 ، 349 ، رشیدیۃ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(4/ 2632 ، رشیدیۃ)
وکذا فی شرح العینی:(2/373 ، ادارۃالقرآن)
وکذافی الھدایۃ:(4/453 ، رحمانیۃ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
17/6/1440 ، 2019/2/23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :11

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔