سوال

ایک بندے نے اس نیت سے پلا ٹ لیا کہ بیٹی بیمار ہے ،جب ضرورت پڑے گی اس کے علاج کے لیے بیچ دوں گا،تو ایسے پلاٹ پر زکوۃ ہے یا نہیں؟

جواب

الجوا ب باسم ملھم الصواب

اگر سائل نے واقعی اس پلاٹ کو مشکل وقت میں بیچ کر محض اپنی ضرورت پوری کرنے کی نیت سے خریداہے، تجارت کی نیت سے نہیں خریدا تو اس پر زکوۃ نہیں آئے گی ،اس لیے کہ فقہاء کرام نے صراحت کی ہے کہ زکوۃ ان اراضی پر آتی ہے جو تجارت کی نیت سےخریدی گئی ہوں۔

لما فی بدائع الصنائع:(2/93،رشیدیہ)
“ولواشتری عینا من الاعیان ونوی ان تکون للبذلۃ والمھنۃ دون التجارۃ لا تکون للتجارۃ.”
وفی الفقہ الاسلامی:(3/1866،رشیدیہ)
اشترط الفقہاء لوجوب زکوۃ عروض التجارۃ شروطا…… منھا ثلاثۃ شروط متفق علیھا وھی بلوغ النصاب وحولان الحول ونیۃالتجارۃ.
وکذا فی تنویرالابصار مع شرحہ:(2/268،سعید)
وکذا فی الفقہ الحنفی :(1/358،الطارق)
وکذا فی المحیط البرھانی:(3/165،داراحیاء تراث)
وکذا فی الھندية:(1/174،رشیدیہ)
وکذا فی التاتارخانیة:(3/166،فاروقیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(2/366،رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/277،امدادیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
7/6/1440، 2019/2/23
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :10

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔