سوال

ايك شخص سے جمعہ کی ایک رکعت رہ گئی ،اس نے وہ رکعت (اس خوف سے کہ لوگ کیا کہیں گے کہ اس سے جمعہ کی نماز کی رکعت رہ گئی ) بیٹھ کر ادا کی ،اب اس شخص کے لیے کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

اس شخص کی نماز جمعہ نہیں ہوئی،لہذا ظہر کی نماز ادا کرے گاَ۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/821،رشیدیہ)
” قال الحنفیۃ: یشترط للقادر الاستقلال فی الفرض فمن اتکا علی عصاہ او علی حائط ونحوہ ،بحیث یسقط لو زال لم تصح صلاتہ ،فان کان لعذر صحت.”
وفیہ ایضا:(2/1331،رشیدیہ)
” فان فسدت الجمعۃ بسبب خروج الوقت او بفوت الجماعۃ، تصلی ظھرا.”
وکذا فی بدائع الصنائع :(1/604،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیة:(1/69،رشیدیہ)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/51،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر:(1/130، المنار)
وکذا فی التاتار خانية:(2/48،فروقیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق:(1/104،قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق:(1/509،رشیدیہ)
وکذا فی مراقی الفلاح :(224،قدیمی)

والله اعلم بالصواب
محمد عابد عفی الله عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/7/1440، 2019/4/3
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :155

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔