سوال

نماز کی حالت میں تھوک یا بلغم پھینک سکتے ہیں؟ (آدمی گھر میں ہو یا مسجد میں) ۔

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

دوران نماز بلا ضرورت تھوکنا مکروہ ہے، اگر تھوکنے کی ضرورت پیش آجائے اور مسجد میں ہوں تو بغیر عمل کثیر کے کسی کپڑے میں تھوک سکتے ہیں اور اگر مسجد کے علاوہ کسی جگہ ہوں تو بائیں جانب تھوک سکتے ہیں ۔

لما فی المرقاۃ:(2/453،، التجاریہ)
“(ولكن) ، أي: ليبصق (عن يساره، أو تحت قدمه) ، أي: اليسار، قال النووي: الأمر بالبصاق عن يساره وتحت قدمه فيما إذا كان في غير المسجد، وأما في المسجد فلا يبصق إلا في ثوبه، قال ابن حجر: فيه نظر لأنه إذا كان في المسجد على شيء له مفروش فيه، فله البزاق عليه في جنبه الأيسر، أو تحت قدمه ; لأن الغرض أن البزاق إنما ينزل على فراشه، ولا يصيب أجزاء المسجد منه شيء.”
وفی البحر الرائق :(2/61،رشیدیہ)
” ولکون المسجد یصان عن القازورات ولو کانت طاھرة یکرہ البصاق فیہ ولا یلقی ولا فوق البواری ولا تحتھا …. ویاخذ النخامة بکمہ او بشیء من ثیابہ.”
وكذا فی الصحیح لمسلم:(1/207،قدیمی)
وکذا فی سنن ابی داود:(1/80،رحمانیہ)
وکذا فی التاتارخانية:(2/209،فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/143،بیروت)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/507،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(2/967،رشیدیہ)
وکذا فی الخانية علی ھامش الھندية:(1/118،رشیدیہ)
وکذا فی الھندية:(1/105،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد عابد عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
2/8/1440،2019/4/8
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :178

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔