سوال

اگر مسجد میں تاخیر سے پہنچنے پر کچھ رکعتیں جماعت سے رہ جائیں تو وہ بعد میں کس تر تیب سے ادا کی جا تی ہیں ؟تفصیل کے ساتھ جواب عنایت فر مائیں۔

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

جو رکعتیں جماعت سے رہ جائیں ان کو اس ترتیب سے ادا کیا جائے:(1) اگر کسی کی ایک رکعت رہ جائے تو وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہو کر سبحانک اللھم آخر تک پڑھے پھر اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم اور بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھے پھر سورت فاتحہ پڑھے اور بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر کوئی سورت ملائے اور معمول کے مطابق نماز مکمل کرلے۔(2) اور اگر مغرب کے علاوہ نماز میں دو رکعتیں رہ جائیں تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہو کر نماز کی پہلی دو رکعتوں کی طرح پڑھے،یعنی پہلی رکعت میں سبحانک اللھم سے شروع کرے،اعوذ باللہ ،بسم اللہ ،سورت فاتحہ اور سورت پڑھ کر رکوع وسجدے کرے اور دو سری رکعت میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر سورت فاتحہ اور کوئی سورت پڑھے اوررکوع وغیرہ کر کے نماز مکمل کرلے۔
اور اگر مغرب کی نماز میں دو رکعتیں رہ جائیں تو اپنی نماز پڑھتے ہوئے پہلی رکعت میں سبحانک اللھم،اعوذ باللہ ،بسم اللہ ،سورت فاتحہ اور کوئی سورت پڑھ کر رکوع وسجدے کرکے التحیات پڑھے پھر کھڑا ہو جائے اور دوسری رکعت میں بسم اللہ پڑھ کرسورت فاتحہ اور کوئی سورت پڑھے اور رکوع وغیرہ کر کے نماز مکمل کر لے۔(3)اور اگر تین رکعتیں رہ جائیں تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑاہو کر سبحانک اللھم،اعوذ باللہ، بسم اللہ ،فاتحہ ،اور کوئی سورت پڑھ کر رکوع وسجدے کرے پھر التحیات پڑھے اور دوسری رکعت میں بسم اللہ،فاتحہ،اور کوئی پڑھ کر رکوع وسجدے کرکے تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوجائے اور بسم اللہ اور فاتحہ پڑھے، سورت نہ پڑھے اور رکوع وغیرہ کرکے نماز مکمل کرلے۔اوراگر مغرب میں تینوں رکعتیں رہ جائیں تو وہ عام طریقے کے مطابق پڑھی جائیں۔(4)اوراگر چار رکعتیں رہ جائیں تو وہ عام طریقے کے مطابق ادا کی جائیں، جیسے ابتداء سے نماز پڑھی جاتی ہے۔

لما فی الھندية:(1/91،رشیدیہ)
(ومنھا) انہ یقضی اول صلاتہ فی حق القراءۃ وآخرھا فی حق التشھد حتی لو ادرک رکعۃ من المغرب قضی رکعتین وفصل بقعدۃ فیکون بثلاث قعدات وقرا فی کل فاتحہ وسورۃ ولو ترک القراۃ فی احداھما تفسد .ولو ادرک رکعۃ من الرباعیۃ فعلیہ ان یقضی رکعۃ یقرا فیھا الفاتحۃ والسورۃ ویتشھدویقضی رکعۃ اخری کذلک ولا یتشھدوفی الثالثۃ بالخیار والقراءۃ افضل،ھکذا فی الخلاصۃ،ولوادرک رکعتین قضی رکعتیں بقراءۃ ولوترک فی احداھما فسدت
وفی المحیط البرھانی:(2/112،داراحیاء)
“ومن حکم المسبوق انہ یصلی اولا ما ادرک مع الامام فاذا فرغ الامام من صلاتہ یقضی ماسبق بہ…ولمسبوق فی الحکم کانہ منفرد،ولھذا کان علیہ القراءۃ فیما یقضی
وکذا فی التاتارخانیة:(2/198،فاروقیہ)
وکذا فی البزازية:(4/60،رشیدیہ)
وکذا فی النھرالفائق:(1/198،قدیمی)
وکذا فی البحر الرائق:(1/664،رشیدیہ)
وکذا فی الشامیة:(1/597،سعید)
وکذا فی خلاصة الفتاوی:(1/166،165،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
ايثارالقاسمی عفی اللہ عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
30/5/1440،2019/2/6
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :130

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔