سوال

ایک عورت کاخاوندفوت ہوگیاہےاوراس کاکرنےوالا بھی اور کوئی نہیں،یہ عورت اسکول میں ملازمت کرتی ہےجواس کےگھر سے تین کلو میڑ کے فاصلہ پر ہے آیا یہ عورت عدت کے دنوں میں پڑھانے کےلئے اسکول جا سکتی ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

بيوه كےليےاگرآمدن کااورکوئی ذریعہ ہویااسےآسانی کےساتھ اسکول سےچھٹی مل سکتی ہوتوپھریہ بیوہ پڑھانے کےلیے نہیں جاسکتی،اوراگرآمدن کااورکوئی ذریعہ نہیں اوراسکول سےچھٹی بھی نہیں مل سکتی تو پھرپڑھانےکےلیےجاسکتی ہے،لیکن شام کو بہرصورت گھرواپس آجائے۔

لما فی بدائع الصنائع : (3/324،رشیدیہ)
واماالمتوفي عنهازوجها فلاتخرج ليلا،ولاباس بان تخرج نهارا في حوائجها لانها تحتاج الي الخروج بالنهار لاكتساب ماتنفقه، لانه لانفقة لها من الزوج المتوفي بل نفقتهاعليها فتحتاج الي الخروج.
وفی حاشيةالطحطاوی علی الدرالمختار : ( 2/230،رشدیہ)
(ومعتدة موت تخرج في الجددين وتبيت) اكثرالليل (في منزلها) لان نفقتها عليها فتحتاج الي الخروج۔۔۔كماسبق في الشامية.
وکذافی الدرالمختارمع ردالمحتار : (5/228،229،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ:(1/534،رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الحنفی:(2/209،الطارق)
وکذا فی:الھدایہ(2/407،رشیدیہ)
وکذا فی التبیین:(3/37،امدادیہ)
وکذا فی المبسوط(6/36،دارالمعرفه)
وکذا فی فتح القدير:(4/309،رشيديه)

واللہ اعلم بالصواب
ایثارالقاسمی غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/7/1440۔2019 /4/5
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :60

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔