سوال

مرغیوں کو ذبح کرنےکے بعد فورا ًسخت گرم پانی کے اندر ڈال دیا جاتا ہے، پھر پَر وغیرہ اُکھیڑ کر گوشت کے اوپر کی جھلی سی اتارے بغیر کاٹ کر پکا لیا جاتا ہے، آیا یہ جائز ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اگر پانی خوب گرم اور کھولتا ہوا ہو، اور مرغی کو اس ميں اتنی دیر رکھا جائے جس سے ظن غالب ہو جائے کہ نجاست گوشت میں سرایت کر گئی ہے، تو یہ گوشت نجس ہو گا ۔ اور اگر پانی بہت گرم نہ ہو یا گرم تو ہو لیکن مرغی کو ڈالتے ہی نکال لیا جائے تو یہ گوشت نجس نہیں ہو گا۔

لما فی حاشية الطحطاوی علی مراقی الفلاح : (160،161، قديمی)
(وعلى هذا الدجاج الخ) يعني لو ألقيت دجاجة حال غليان الماء قبل أن يشق بطنها لتنتف أو كرش قيل أن يغسل إن وصل الماء إلى حد الغليان ومكثت فيه بعد ذلك زمانا يقع في مثله التشرب والدخول في باطن اللحم لا تطهر أبدا إلا عند أبي يوسف كما مر في اللحم وان لم يصل الماء إلى حد الغليان .
وفی مجمع الانهر : ( 1/91، المنار )
“و لو القيت دجاجة حالة الغليان في الماء قبل ان يشق بطنها و يغسل ما فيه من النجاسة للنتف لا يطهر ابدا
وکذافی الفتاوی التاتارخانية : (1/445، فاروقيه )
وکذا فی البحر الرائق : (1/413، رشيديه )
وکذا فی حاشية الطحطاوی علی الدر المختار:(1/163، رشيديه )
وکذا فی فتح القدير:(1/211، رشيديه)
وکذا فی الدر المختار :(1/334، سعيد )
وکذا فی الشامية :(1/334، سعيد)

واللہ اعلم بالصواب
ایثارالقاسمی غفرلہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1440،2019/4/11
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :199

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔