سوال

مقامی بچےجس مدرسہ میں پڑهتےہوں توان کوعشر،زکوۃ ،اورقربانی کی کھالیں،وغیرہ دیناکیساہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

یہ طلبہ اگرواقعی مستحق ہوں تواس مدرسہ میں یہ اشیاءدےسکتےہیں بشرطیکہ انہوں نےمدرسہ کےمنتظم کوعشروزکوۃ لینےکاوکیل بنایاہو۔

لما فی الہندیہ: ( 1/190، رشیدیہ)
“اذاوقع الزکوۃالی الفقیرلایتم الدفع مالم یقبضھااویقبضھاللفقیرمن لہ ولایۃعلیہ نحوالاب والوصی.”
وفی التاتارخانية: (3 /212، فاروقيه)
“ولايجوزالزكوةالااذاقبضهاالفقير،اوقبضهامن يجوزقبضهاله لولايته عليه كالاب والوصي.”
وکذافی خلاصة الفتاوی: ( 1/242، رشیدیہ)
وکذا فی القرآن الکریم: (سورة توبه/60، )
وکذافی البحرالرائق: ( 2/219، رشيديه)
وکذا فی مجمع الانهر: ( 1/328، المنار)
وکذافی المحيط البرهانی: (3 /214،داراحیاء )
وکذا فی الفقہ الاسلامی: ( 3/1962،رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
ايثار القاسمی غفر لہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
5/8/1440،2019/4/11
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :4

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔