سوال

بیٹے کا ایک لڑکی سے نکاح ہوا تھا لیکن ہمبستری نہیں کی اور اس کو طلاق دے دی، تو کیا باپ اس لڑکی سے شادی کر سکتا ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

بیٹے نے اپنی بیوی سے ہمبستری کی ہو یا نہ کی ہو، محض نکاح کرنے سے وہ عورت باپ کے لئے حرام ہو جاتی ہے، لہذا باپ اس عورت سے نکاح نہیں کر سکتا۔

لما فی السنن الکبری : ( 7/260، دار الکتب العلمیہ)
“عن الحسن، أنه سئل عن رجل تزوج امرأة، فطلقها قبل أن يدخل بها أيتزوجها أبوه؟ قال الحسن: ” لا ” قال الله تعالى: {وحلائل أبنائكم الذين من أصلابكم} [النساء: 23].”
وفی الکتاب المصنف لابن أبی شیبة : ( 3/467، دار الکتب العلمیہ )
“عن أبی ابراھیم قال: اذا تزوج الرجل المرأۃ فلم یدخل بھا لم تحل لأبیہ.”
وفی رد المحتار علی الدر المختار: ( 4/111، رشیدیہ )
“قولہ: ( ولو بعیدا ) بیان للإطلاق … و تحرم زوجۃ الأصل و الفرع بمجرد العقد دخل بھا أو لا.”
وکذافی تفسیر البحر المحیط: ( 3/221، دار الکتب العلمیہ)
وکذا فی صفوة التفاسیر: ( 1/269، دار احیاء تراث)
وکذافی أحکام القرآن للجصاص: ( 2/185، قدیمی)
وکذا فی تفسیر القرطبی: ( 5/113، دار احیاء تراث)
وکذافی الجوھرة النیرة علی المختصر: ( 2/68، حقانیہ)
وکذا فی البنایة: ( 4/512، دشیدیہ)
وکذافی الدر مع شرحہ : ( 4/111، رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عرفان جاویدعفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
15/6/1440، 2019/2/21
جلد نمبر :17 فتوی نمبر :178

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔