سوال

میری ایک عزیزہ کے شوہر کا انتقال ہو گیا ہے اب وہ عدت میں ہیں اور ان کا گھر کسی دوسرے شہر میں ہے۔ چند دنوں کے بعد ہمارے ہاں ایک ختم ہے اور ایک تقریب بھی ہے، تو کیا وہ عورت اس میں شرکت کے لئے ہمارے ہاں آ سکتی ہے؟ اور وہ عذر بھی بتا دیں جن کی وجہ سے عدت والی عورت گھر سے باہر نکل سکتی ہے، یا دوسرے شہر کا سفر کر سکتی ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

عورت اپنی عدت کے دوران عذر اور ضرورت کے تحت دن میں گھریلو اخراجات یا علاج معالجہ یا اپنی عزت یا مال کی حفاظت یا کرائے کی ادائیگی وغیرہ کے لئے گھر سے نکل سکتی ہے، جبکہ رات گھر میں گزارنا ضروری ہے ۔ مگر سوال میں مذکورہ وجوہات کوئی شرعی عذر نہیں ہیں، لہذا ان وجوہات کی بناء پر بیوہ کا گھر سے نکلنا جائز نہیں۔

لما فی الھندیة: ( 1/534، رشیدیہ )
“المتوفی عنھا زوجھا تخرج نھارا و بعض اللیل و لا تبیت فی غیر منزلھا کذا فی الھدایۃ.”
وفی الھدایة: ( 3/297، البشری )
المتوفی عنھا زوجھا تخرج نھارا و بعض اللیل و لا تبیت فی غیر… وأما المتوفی عنھا زوجھا فلأنہ لا نفقۃ لھا، فتحتاج الی الخروج نھارا لطلب المعاش، و قد یمتد الی أن یہجم اللیل.”
وکذافی فتح القدیر: ( 4/309، رشیدیہ )
وکذافی الدر المختار مع رد المحتار: ( 5/228، رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ( 4/7200، 7199، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق: ( 4/459، رشیدیہ )
وکذافی الخانیة مع الھندیة: ( 1/554، رشیدیہ )
وکذا فی الأشباہ و النظائر: ( 87، قدیمی کتب خانہ )

واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
4/8/1440، 2019/4/10
جلد نمبر :19 فتوی نمبر:25

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔