الجواب حامداً ومصلیاً
شرعا یہ نکاح درست نہیں ہوا، اس لیے کہ نکاح کے انعقاد کے لیے مجلس کا ایک ہونا ضروری ہے، جبکہ فون پر نکاح کی صورت میں مجلس ایک نہیں ہوتی۔ البتہ اس کی یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے کہ جس مقام پر لڑکی موجود ہو، اس مقام کے کسی آدمی کو لڑکا اپنا وکیل بنا دے، یا لڑکے کے مقام کے کسی آدمی کو لڑکی اپنا وکیل بنا دے اور وہ وکیل دو گواہوں کی موجودگی میں اس طرح ایجاب و قبول کر لے کہ میں اپنے مؤکل ( لڑکے )، یا مؤکلہ ( لڑکی ) کی طرف سے وکیل بن کر اتنے مہر میں اس کا نکاح اس لڑکے یا لڑکی سے کرتا ہوں اور مقابل ( لڑکا یا لڑکی ) قبول کر لے تو نکاح ہو جائے گا۔
لمافی بدائع الصنائع: ( 2/490، رشیدیہ )
(وأما) الذي يرجع إلى مكان العقد فهو اتحاد المجلس إذا كان العاقدان حاضرين وهو أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس لا ينعقد النكاح،……فأما إذا كان أحدهما غائبا؛ لم ينعقد
وفی الشامیة: ( 4/490، دار المعرفة )
“(قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد
وفی تقریرات الرافعی مع رد المحتار: ( 4/490، دار المعرفة )
“المتبادر من اشتراط اتحاد المجلس أن المراد بہ مجلس المتعاقدین، لا مجلس الایجاب و القبول.”
و فی الھندیة: (1/294، رشیدیہ )
“یصح التوکیل بالنکاح و ان لم یحضرہ الشھود کذا فی التاتارخانیۃ ناقلا عن خواھرزادہ.”
وکذا فی البحر الرائق: ( 3/241، رشیدیہ )
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید: ( 2/60، الطارق )
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة: ( 4/146، فاروقیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی و أدلتہ: ( 9/6726، رشیدیہ )
وکذافی بدائع الصنائع: ( 2/527، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی و أدلتہ: ( 5/4075، رشیدیہ )
وکذافی فتح القدیر: ( 3/301، رشیدیہ )
واللہ تعالیاعلم بالصواب
محمد عرفان جاوید عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
27/7/1440، 2019/4/4
جلد نمبر :18 فتوی نمبر :100