سوال

میرے ایک عزیزکا باربی کیو(تکہ و سیخ کباب وغیرہ) کا کاروبار ہے بعض اوقات وہ مختلف تقریبات کے لئے مال آرڈر بھی تیارکرتےہیں اس میں کئی دفعہ معاملہ کوانٹٹی(مقدار) طے کرکے کیا جاتاہے مثلا ہم آپ کو500کباب یا 700تکہ تیارکرکےدیں گےمٹیریل(سامان)کبھی دکاندار کا ہوتا ہے اور کبھی صاحب خانہ کا ۔دریافت طلب بات یہ ہے کہ اہل خانہ کو مطلوبہ مقدارفراہم کرنے کے بعد بچا ہوا مٹیریل اپنے استعمال میں لا سکتے ہیں¬¬ واضح رہے کہ مٹیریل اگر صاحب خانہ کا ہو تب بھی مطلوبہ مقدار فراہم کرنے کے بعد ان کے کام کا نہیں رہتا دونوں صورتوں(مٹیریل دکاندار کا ہو یا صاحب خانہ کا) کے بارےمیں شرعی حکم سے مطلع فرمادیں۔

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

اگر وہ بچا ہوا سامان دکاندار کا اپنا ہو تو چونکہ وہ اس کا مالک ہے وہ استعمال کر سکتا ہےاور اگر وہ سامان اہل خانہ کا ہوتو پھر ان کی اجازت کے بغیر استعمال نہیں کر سکتا۔

لمافی مسند الامام احمدبن حنبل:(4/437، دار احیاءالتراث)
˝ولا یحل لامرئ من مال اخیہ الا ماطابت بہ نفسہ۔”
وفی کنز العمال:(5/51، رحمانیہ)
˝انہ لا یحل مال امرئ مسلم الا بطیب نفسہ منہ۔”
وکذافی السنن الکبری:(6/160، دار الکتب العلمیہ)
وکذافی المشکوۃ المصابیح:(1/228، رحمانیہ)
وکذا فی کنز العمال:(5/50، رحمانیہ)
وکذا فی کنز العمال:(5/49، رحمانیہ)

 

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اکرام غفر لہ
متخصص جامعۃ الحسن ساھیوال
1/5/1440،2019/01/08
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:84

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔