الجواب باسم ملہم الصواب
حضور ﷺ سے نابالغ کے جنازے کی کوئی خاص دعا منقول نہیں ہے ،اور حضرات سلف صالحین سے بھی مختلف الفاظ مروی ہیں ۔مثلا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ یہ دعا پڑھتے تھے ،اَلّٰلہُمَّ اجْعَلْہُ لَنَا سَلَفَا وَفَرَطا وَ ذُخْرا ،اور حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی اسی سے ملتے جلتے الفاظ منقول ہیں ،اس لیے فقہاء کرام نے تمام روایات کے پیش نظر ایک جامع دعا ذکر فرمائی ہے ۔اَلّٰلہُمَّ اجْعَلْہُ لَنَا فَرَطا وَاجْعَلْہُ لَنَا اَجْرا وَذُخْراوَاجْعَلْہُ لَنَا شَافَعا وَ مُشَفَّعا.
اگر نابالغ بچی کا جنازہ ہو تو اِجْعَلْہُ کی بجائے اِجْعَلْھَا اور شَافِعا وَمُشَفَّعا کے بجائے شَافِعۃ وَمُشَفَّعَۃ پڑھا جائے ۔
لمافی صحیح البخاری :(1/178،قدیمی )
“وقال الحسن یقرا علی الطفل بفاتحۃ الکتاب ویقول اللہم اجعلہ لنا فرطا و سلفا و اجرا.”
وفی مصنف ابن ابی شیبۃ :(6/107،دار الکتب)
“عن الحسن انہ کان یقول :اللہم اجعلہ لنا فرطا وذخرا واجرا.”
وفی السنن الکبری :(4/15،دارالکتب)
“عن ھمام بن منبہ عن ابی ھریرۃ انہ کان یصلی علی المنفوس الذی لم یعمل خطیئۃ فقط ویقول :اللہم اجعلہ لنا سلفا وفرطا و ذخرا.”
وفی عون المعبود شرح سنن ابی داؤد :(8/275،قدیمی ) وفی مراقی الفلاح مع نور الایضاح :(1/587،قدیمی )
وفی عمدۃ القاری:(8/139،دار احیاء ) وفی فتح الباری :(3/262،قدیمی)
وفی الھدایة :(1/192،میزان) وفی بدائع الصنائع:(2/51،رشیدیہ )
واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اکرام کان اللہ لہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
22/9/1440،2019/5/28
جلد نمبر :19 فتوی نمبر :85