الجواب بعون الملک الوھاب
چالیس ہزار روپے کے سکے دے کراڑ تیس ہزارروپے کے نوٹ لینا درست نہیں ،اگر آپ اس شخص کواپنا ملا زم یا ایجٹ بنا لیں اور طے کر لے کہ تم ہمارے چا لیس ہزار کے سکے لے جاواور مختلف دکاندارو ں سے ان کے بدلے چا لیس ہزار کے نو ٹ لے آو تو اس کام پر ہم تمہیں 2000روپے تنخواہ یا کمیشن دیں گے تو یہ معا ملہ درست ہو جا ئےگا۔
لمافی الفقہ الاسلا می وادلتہ: (5/ 3701،رشیدیہ)
وتحریم الربا فی النقدین (الذھب والفضةاو ما یحل محلھما من النقود الو رقیة الر ائجة) لا فرق فیہ بین المسکوک المصنو ع او التبر غیر المصنوع اذا قال الفقہا ء عن الد راھم :تبر ھا او عینھا سواء
وکذافی التا تا ر خانیة :(8/304،فاروقیة)
وکذافی مجمع الانھر :(3/120،المنار )
وکذافی فتح القدیر:(7/20،رشیدیہ )
وکذافی البحر الرائق :(6/219،رشیدیہ )
وکذافی بدا ئع الصنا ئع :(4/488،رشیدیہ)
وکذافی رد المحتار :(5/174،ایچ ایم سعید )
وکذافی النھرالفا ئق :(3/475،قدیمی )
وکذافی البنایہ:7/362،رشیدیہ
وکذافی الفقہ الحنفی :(4/233،الطارق)
واللہ اعلم بالصواب
علیم اللہ غفرلہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/5/30, 06/2/2019
جلد نمبر :17 فتوی نمبر:160