الجواب باسم ملھم الصواب
مر حوم نے بوقت انتقال اپنی ملکیت میں جائیداد منقولہ ( جیسے:سونا ،چاندی ، زیورات، اور کپڑے وغیرہ )اور غیر منقولہ (جیسے :مکان ،دکان اور فصل وغیرہ ) غرض چھوٹا ،بڑا جو بھی سا مان چھوڑا نیز مرحوم کا قرضہ اور ایسے واجبات جو کسی فرد یا ادارے کے ذمے ہوں، یہ سب میت کا تر کہ شمار ہو گا۔ اس کے بعد میت کے ترکے کے ساتھ چند حقوق متعلق ہوتے ہیں،جنہیں بالترتیب ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔
سب سے پہلے میت کے دفن تک تمام ضروری مراحل پر ہونے والے جائز اور متوسط اخراجات نکالے جائیں گے ،اگر کسی بالغ وارث یا کسی اور نے تبرعا اس کا نظم کر دیا تو ترکہ سے یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں۔
اگر میت کے ذمے کسی کا قرض ہو تو باقی بچے ہوئے مال سے ادا کیا جائے گا ، خواہ قر ض کی ادائیگی میں سارا مال خرچ ہو جائے ، واضح رہے کہ اگر مرحوم نے اپنی بیوی کا مہر ادا نہیں کیا تھا اور بیوی نےمعاف بھی نہیں کیا تھا تو وہ بھی قر ض شمار ہو گا۔
اس کے بعد اگر میت نے کسی غیر وارث کے لیے جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کی تہائی تک پوری کی جائے گی ۔
(4) ان تمام حقوق کی ادائیگی کے بعد جو بھی ترکہ بچے خواہ زمین ہو یا زیور یا فصل وغیرہ اس کو درج ذیل تفصیل کے مطابق تقسیم کیا جائے گا
کل ترکہ کے 80 برابر حصے بنائے جائیں ،10 حصے یعنی اڑھائی ایکڑ (12.5فیصد)بیوی کو، 14 حصے (17.5فیصد ) ہر بیٹے کو اور 7 حصے (8.75فیصد )ہر بیٹی کو دیا جائے گا ۔
سوال میں مذکور رقم 2500000 روپے میں سے بیوی کو 312500 روپے ،ہر بیٹے کو 437500 روپے اور ہر بیٹی کو 218750 روپے ملیں گے ۔ بقیہ اشیا ء کو بھی مذکورہ بالا فیصدی حصہ کے مطا بق تقسیم کر لیا جائے ،پوتے ،بھائی اور بہنوں کو کچھ نہیں ملے گا۔
مزید وضاحت کے لیے نقشہ ملاحظہ فرمائیں
نمبر شمار ورثاء عددی حصہ فیصدی حصہ زمین میں حصہ نقدی میں حصہ
1 بیوی 10 %12.5 2.5 ایکڑ 312500 روپے
2 بیٹی 7 %8.75 1.75 ایکڑ 218750 روپے
3 بیٹی 7 %8.75 1.75 ایکڑ 218750 روپے
4 بیٹا 14 %17.5 3.5 ایکڑ 437500 روپے
5 بیٹا 14 %17.5 3.5 ایکڑ 437500 روپے
6 بیٹا 14 %17.5 3.5 ایکڑ 437500 روپے
7 بیٹا 14 %17.5 3.5 ایکڑ 437500 روپے
میزان 7 80 %100 20 ایکڑ 2500000 روپے
لما فی السراجی: (7،شرکت علمیہ)
“اماللزوجات فحالتان ۔۔۔۔۔والثمن مع الولد ۔۔۔۔۔واما لبنات الصلب فاحوال ثلث :النصف للوحدۃوالثلثان للاثنتین فصاعد اومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین وھو یعصبھن”
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ: (20/224،فاروقیہ)
“بنات الصلب لھن حالان سھم وتعصیب اذ لم یکن للمیت ابن فھو ۔۔۔۔ وان کان للمیت ابن تصیر عصبۃ وسقط اعتبار النصف والثلثین ویقسم المال بینھم للذکر مثل حظ الانثیین “
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ :(10/ 7773، رشیدیہ) وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ : (6/448، رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی : (23/ 288، تراث العربی ) وکذا فی مجمع الانھر : (4/511، المنار)
وکذا فی الدر المختار : (10/553، دارالمعرفہ ) وکذا فی البحر الرائق : (9/373، رشیدیہ)
وکذا فی تبیین الحقائق : (6/ 233، امدایہ )
واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
17، 7، 1440، 2019، 3، 25
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:79