سوال

ایک آدمی نے دوسال کی قسطوں پرایک پلاٹ 24 لاکھ روپے میں خریدا اس پر قبضہ بھی کرلیا ، اورہر مہینہ ایک لاکھ روپے ادا کرتا رہا ، اس طرح اس نے 6 اقساط ادا کردیں ، لیکن مذکور ہ پلاٹ اس کے نام پر نہیں اصل مالک کے نام ہے، اب اس پلاٹ کی قیمت 30 لاکھ ہے ، کیا وہ آدمی اس پلاٹ کو آگے 30لاکھ میں فروخت کرسکتا ہے کہ خرید ار بقیہ قسطیں مالک کو ادا کرے گا اور 12 لاکھ روپے اس آدمی کو دے گا، اور اصل مالک اس پہ راضی ہے کہ جب بقیہ 18 قسطیں مکمل ہوں گی تو میں پلاٹ اس دوسرے آدمی کے نام لگوادوں گا۔

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

مذکورہ صورت میں یہ آدمی اصل مالک کی رضامندی سے پلاٹ آگے فروخت کرسکتا ہے۔

لما فی الفتاوی العالمکیریہ : ( 3/ 20 ، رشیدیہ)
“واذا امر المشتری البائع بطحن الحنطۃ فطحن صار قابضا والدقیق للمشتری کذا فی البحر الرائق “
وکذا فی الدر المختار : ( 8/ 19، دارالمعرفہ )
ولو باع بشرط ان یحتال بالثمن صح شرط ملائم کشرط الجودۃ ۔۔۔۔۔لانہ یؤکد موجب العقد ، اذا لحوالۃ فی العادۃ تکون علی الاملاء والاحسن قضاء فصار کشرط الجودۃ
وکذا فی الھدایہ : ( 5/328، البشری)
وتصح الحوالۃ برضا المحیل ،والمحتال ،والمحتال علیہ ، اما المحتال ، فلان الدین حقہ ، وھو الذی ینتقل بھا، والذمم متفاوتۃ فلا بد من رضاہ
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (5/ 3377، رشیدیہ) وکذا فی المحیط البرھانی15 ) : /398،احیاء تراث العربی )
وکذا فی بدائع الصنائع : ( 5/ 10 ، رشیدیہ) وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ : ( 10/ 263،فاروقیہ )
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید : ( 2/ 425، الطارق ) وکذا فی البنایہ : ( 7/30، رشیدیہ)
وکذا فی شرح المجلہ : (2/191، رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعة الفقھیہ : (9/ 36،علوم الاسلامیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
26، 5، 1440/ 2019، 2، 2
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:141

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔