سوال

ميں نے كافی عرصہ پہلے پرائز بانڈ خریدے تھے، مقصد یہ تھا کہ رقم محفوظ ہو جائے، ان ميں سے ايك بانڈ پر انعام نكل آيا ہے، تو انعام کی یہ رقم لینا کیسا ہے ۔؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

جتنی رقم آپ نے لگائی تھی صرف وہی لے سکتے ہیں، انعام کی رقم سود ہے، اس کا ستعمال کرنا آپ کے لیے جائز نہیں، بلا نیت ثواب صدقہ کر دیں۔

لما فی بحوث فی قضایا فقھیة معاصرۃ : ( 2/160،معارف القرآن )
فلان الحکومۃ تلتزم بتوزیع الجوائز علی حملۃ السند فالزیادۃ علی مبلغ القرض وان لم تکن مشروطۃ لکل واحد من المقرضین ولکنھا مشروطۃ تجاہ مجموعۃ المقرضین ۔۔۔۔۔۔انھا زیادۃ غیر مشروطۃ فی العقد ، وکلما اشتر طت الزیادۃفی عقد القرض صارت ربا
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ ا لجدید: (4/235،الطارق )
“وھو الرباالتاخیراوالزیادۃالمشروطۃالمقابلۃللاجل وھوالربا الذی کان معروفالاھل الجاھلیۃ من دفعھم المال مؤجلا الی مدۃ علی ان یدفع الآخذ قدر امعینا کل شھر مثلا ویکون راس المال باقیا”
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (5/3698،رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی العالمكیرية:(3/117،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعةالفقھية:(22/57،علوم الاسلامیہ)
وکذا فی القاموس الفقھی:(143،علوم الاسلامیہ)
وکذا فی کنز الدقائق:(248،حقانیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع :(4/400،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(6/207،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
12، 6، 1440،2019، 2، 18
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:162

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔