سوال

کہ اگر لڑکا اور لڑکی والدین کی مر ضی کے خلاف چوری چھپے نکاح کر لیں اور پتہ چلنے پر دونوں کے والدین اس نکاح پر راضی نہ ہوں تو کیا یہ نکاح درست ہو گا ؟ خاص طور پر اگر لڑکی ذات پات اور رتبے کے لحاظ سے لڑکے اور اس لڑکے کے خاندان کے رتبے اور حیثیت کے برابر نہ ہو، یعنی لڑ کی کا تعلق لڑکے کی بنسبت کم حیثیت اور کم درجے والے خاندان سے ہو ، اور لڑکے کے والدین کسی بھی صورت پر اس نکاح کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوں تو اس نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہو گی ؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

شرعاً یہ نکاح تو درست ہے ،لیکن سرپرستوں کی اجازت کے بغیر چھپ کر نکاح کر لینا بہت نا مناسب حرکت ہے، عورت کے خاندان کا مرد کے خاندان سے کم حیثیت ہونا نکاح کے صحیح ہونے میں مضر نہیں ۔

لما فی الفتاوی العالمکیریہ : (1/290، رشیدیہ )
فاذا تزوجت المر اۃ رجلا خیرا فلیس للولی ان یفرق بینھما ،فان الولی لا یتعیر بان یکون تحت الرجل من لا یکا فئوہ ،کذا فی شرح المبسوط للامام السرخی
وکذا فی الموسوعةالفقھیة : (34/267،علوم الاسلامیہ )
فذھب الحنفیۃ والحنابلۃ الی ۔۔۔۔۔ ان الکفاءۃ تعتبر فی جانب الرجال للنساء ، ولا تعتبر فی جانب النساء للرجال ،لان النصو ص وردت باعتبارھا فی جانب الرجال خاصۃ۔
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 9/6742، رشیدیہ )
وکذا فی النھر الفائق : (2/217،قدیمی )
وکذا فی البنایہ : ( 4/619، رشیدیہ )
وکذا فی بدائع الصنائع : (2/ 629، رشیدیہ )
وکذا فی البحر الرائق : ( 3/225 ، رشیدیہ )
وکذا فی الدر المختار : ( 3/ 84 ،ایچ ایم سعید )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
27، 5، 1440/ 2019، 2، 3
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:111

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔