سوال

جب امام قرأت شروع کر چکا ہو تو مقتدی ثناء نہیں پڑھے گا ۔ لیکن اگر مقتدی کے ثناء شروع کرنے کے بعد امام نےقرأت شروع کی تو کیا مقتدی اسے مكمل کرے یا خاموش ہو جائے ؟

جواب

الجواب باسم ملھم بالصواب

مقتدی کو خاموش ہو کر قرأت سننا چاہیے۔

لما فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : (2/ 876،رشیدیہ )
واذا شرع الامام فی القراءۃ الجہریہ او غیرھا ،لم یکن للمقتدی عند الحنابلۃ والحنفیۃ علی المعتمد ان یقرء الثناء ،سواء کان مسبوقا ام مدرکا ،ای لاحقا الامام بعد الابتداء بصلاتہ ،او مدرکا الامام بعد مااشتغل بالقراءۃ ،لان الاستماع للقرآن فی الجہریۃ فرض ،وفی السریۃ یسن تعظیما للقراءۃ
وكذا فی الدر المختار :(1/488، سعید )
وقرء کما کبر سبحانک اللھم ۔۔۔۔۔۔۔ الااذا شرع الامام فی القراءۃ سواء کان مسبوقا او مدرکا وسواء کان امامہ یجھر بالقراءۃ اولا ،فانہ لا یا تی بہ لما فی النھر عن الصغری ادرک الامام فی القیام یثنی مالم یبدا بالقراءۃ
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/218، الطارق )
وکذا فی المحیط البرھانی :(2/133، احیاء تراث العربی )
وکذا فی فتح القدیر :(1/35، رشیدیہ )
وکذا فی کتاب الفقہ :(1/220، الحقانیہ )
وکذا فی الموسوعةالفقھیہ:(4/ 53،علوم الاسلامیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28، 6، 1440، 2019، 3،5
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:69

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔