سوال

ظہر کی پہلی چار سنتیں پڑھنے کے دوران اگر جماعت کھڑی ہو جائے تو حکم یہ کہ دو رکعارت پر سلام پھیر کر جماعت میں شریک ہو جائے تو سوال یہ کہ فرض نماز کے بعد اب پوری چار سنتیں دوبارہ پڑھے گا یا جو دورکعات بقیہ رہ گئیں ہیں، ان کو پو را کرے گا، وضاحت مطلوب ہے۔

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

صورت مسئولہ میں راجح قول کے مطابق فرض کے بعد چار رکعات پوری ادا کرنا ہوں گی ۔

لما فی المحیط البرھانی : ( 2/ 245 ،احیاء تراث العربی )
واما اذا شرع فی النفل ثم اقیمت الفرج ۔۔۔۔۔ وان کان فی الاربع قبل الظہر فقد اختلف المشائخ فیہ ۔۔۔۔ فکان الشیخ القاضی الامام ابو علی النسفی رحمہ اللہ یقول : کنت افتی زمانا انہ یتم الاربع ھھنا حتی وجدت روایۃ عن ابی یوسف رحمہ اللہ انہ یسلم علی راس الرکعتین ۔۔۔ وعلی قیاس ابی یوسف یقضیھا اربعا کما فی سائر التطوعات
وکذا فی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید : ( 1/ 263، الطارق ) وکذا فی مجمع الانھر : ( 1/ 209، المنار )
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیة: (2 /312، فاروقیہ) وکذا فی فتح القدیر : ( 1/ 488، رشیدیہ )
وکذا فی الفتاوی العالمکیریہ : ( 1/ 120، رشیدیہ )
وکذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ : ( 2/1181، رشیدیہ )
وکذا فی الھدایہ :(1/ 158، المیزان )
وکذا فی الموسوعة الفقھیہ : (27/ 158 ، علوم الاسلامیہ )
وکذا فی البنایہ: (2/ 657، رشیدیہ )

واللہ اعلم بالصواب
محمد مظہر اقبال عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
15، 9، 1440،2019 ،5،21
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:138

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔