سوال

قربانی کے بڑے جانور میں زیادہ سے زیادہ سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں ،اس سے زیادہ شریک نہیں ہو سکتے اور اگر سات سے کم آدمی شریک ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں ۔جبکہ ہمارے یہاں ایک مولانا صاحب کا کہنا ہے کہ سات حصے بنانا لازمی ہے اس سے کم شرکاء اگرہوں گے تو بھی قربانی نہ ہو گی ۔برائے مہربانی کتاب وسنت کی روشنی میں ہماری راہنمائی فرمائیں ؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

قربانی کے بڑے جانور میں زیادہ سے زیادہ سات آدمی شریک ہو سکتے ہیں اور اگر سات سے کم آدمی شریک ہوں تو بھی کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ کسی کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہ ہو ۔

لما فی الصحیح لمسلم رحمہ اللہ
“عن جابر رضی اللہ عنہ قال :خرجنا مع رسول اللہ ﷺ مھلین بالحج فامرنا رسول اللہﷺ ان نشترک فی الابل والبقر کل سبعۃمنا فی بدنۃ۔”
“وعن جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ قال: نحرنا مع رسول اللہ ﷺعام الحدیبیۃ البدنۃ عن سبعۃ والبقرۃ عن سبعۃ۔”
(الصحیح لمسلم:1/491،م:رحمانیہ)
وکذا فی الموطالامام مالک رحمہ اللہ تعالی:۔(395،م:رحمانیہ)
وفی بدائع الصنائع
ولا یجوز بعیر واحد ولابقرۃ واحدۃ عن اکثرمن سبعۃ ۔ویجوز ذالک عن سبعۃ او اقل من ذالک ،وھذا قول عامۃ العلماء۔۔۔والصحیح قول العامۃ لما روی عن رسول اللہ ﷺ:(البدنۃ تجزئ عن سبعۃ والبقرۃ تجزی عن سبعۃ
(بدائع الصنائع :4/206،207،م:رشیدیہ)
وفی الھدایۃ
وتجوز عن خمسۃ او ستۃاو ثلاثۃ ذکرہ محمد رحمہ اللہ تعالی فی الاصل لانہ لما جاز عن سبعۃ
فعمن دونھم اولی ،ولا تجوز عن ثمانیۃاخذا بالقیاس فیما لا نص فیہ ۔

 

(الھدایۃ:4/444،445،م:رحمانیہ)
وکذا فی البحر الرائق:۔(8/319،م:رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط للسرخسی رحمہ اللہ تعالی :۔(12/12،م:دارالمعرفہ)
وکذا فی تنویر الابصار مع شرحہ والشامیۃ:۔(9/524،525،م:رشیدیہ)
وکذا فی الھندیۃ:۔(5/304،م:رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی :۔(5/202،203،م:الطارق )
وکذا فی خلاصۃ الفتاوی:۔(4/315،م:رشیدیہ)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
متخصص جامعۃالحسن ساہیوال
3/2/1440، 2018/10/13
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:56

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔