سوال

بعض لوگوں سے سنا ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالی لوگوں پر پردہ ڈالنے کے لیے انہیں ان کی ماؤں کے ناموں سے پکاریں گے قرآن وسنت کی روشنی میں اس کی وضاحت فرما دیں ۔(2)عربی کتابوں میں جس”حمار الوحش“کا ذکر ہے تو بعض حضرات اس سے زیبرا مراد لیتے ہیں ،کیا واقعی ایسا ہی ہے ؟اگر نہیں تو پھر اس سے کونسا جانور مراد ہے ؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

واضح اور صریح صحیح احادیث میں وارد ہے کہ قیامت کے دن باپ کے نام سے پکارا جائے گا ،اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح حکم فرمایا کہ تم اپنا نام اچھا رکھو کیونکہ قیامت کے دن تمہیں اپنے نام اور باپ کے نام سے پکارا جائے گا۔

لما فی الصحیح للبخاری:(2/439، رحمانیہ)
“عن ابن عمر رضی اللہ عنھما عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال :ان الغادر یرفع لہ لواء یوم القیامۃ یقال :ھذہ غدرۃ فلان بن فلان .”
وفی سنن ابی داؤد:(2/334،رحمانیہ)
” عن ابن عمر رضی اللہ عنھما قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :انکم تدعون یوم القیامۃ باسمائکم واسماء آبائکم فاحسنوا اسمائکم. “
(وکذا فی الصحیح لمسلمم :(2/93،رحمانیہ)
(وکذا فی اشعہ اللمعات :(4/53،54،رشیدیہ)
(وکذا فی حاشیہ سنن ابی داؤد لشیخ الھند :(2/334،رحمانیہ)
(کذا فی الکشاف للزمخشری :(2/682،من منشورات البلاغہ )
(وکذا فی الجامع لاحکام القرآن للامام القرطبی:(10/296،بیروت)
وکذافی الھامش علی الصحیح للبخاری:(2/439،رحمانیہ)

احادیث میں اور فقہاء کرام سے جس”حمار الوحش“ کی حلت کا ذکر ہے اس سے مراد زیبرا ہی ہے ۔اور شبہ شاید اس بنا ءپر ہوتا ہے کہ بعض عربی لغات میں ”حمارالوحش “سے عام گدھے کی طرح کا ایک جنگلی گدھا مراد لیا گیا ہے ،لیکن بعض معتبر لغات میں یہ صراحت بھی موجود ہے کہ حمار الوحش سے زیبرا ہی مراد ہے اور اسی کے دو نام ہیں :حمارالزرد اور حمار الوحش ۔

المعجم الوسیط :(196،دار الدعوۃ)
“و(حمارالزرد)او الوحش :جنس حیوان من ذوات الحوافر وفصیلۃ الخیل ،معروف بالوانہ المخطۃ.”

وفی المورد (قاموس انکلیزی،عربی): (1380)بحوالہ فتاوی دارالعلوم زکریا:(6/240،زمزم)

“العتابی:حمار الزردحمار وحشی ۔”.(zebra)
(کذا فی الصحیح للبخاری :1/516،رحمانیہ)
(کذا فی تنویر الابصار وشرحہ مع الرد:9/507،508،رشیدیہ)
(کذا فی الفتاوی الولوالجیہ:3/56،الحرمین شریفین)
(کذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:4/157،رشیدیہ)
(کذا فی تکملہ فتح الملہم: 3/517، دار العلوم کراتشی)
(کذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:18/445،فاروقیہ)
(کذا فی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(4/2798،رشیدیہ

واللہ اعلم بالصواب

سلیم اللہ

دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال

17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:195

 

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔