سوال

جانورذبح کرنے کے لیے ایسی چھری ہونی چاہیے جس میں تین کیل لگے ہوئے ہوں ،ورنہ جانور مکروہ ہو جاتا ہے ،اس کی شرعی طور پر کیا حیثیت ہے ؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

اس کی کوئی اصل و حیثیت نہیں ہے ،احادیث میں تو ذبح کرنے کے لیے دھاری دار چیز کا ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

لما فی بدائع الصنائع :(4/158،رشیدیہ)
وعلی ھذا یخرج ما اذا ذبح بالمروۃ اوبلیطۃ القصب او بشقۃ العصا او غیرھا من الآلات التی تقطع انہ یحل لوجود معنی الذبح وھو فری الاوداج
وکذا فی تنویر الابصار:(رد المحتار:9/494،رشیدیہ)
وکذافی الصحیح للبخاری :(2/341،342،رحمانیہ)
وکذافی جامع الترمذی :(1/404،رحمانیہ)
وکذافی المبسوط للسرخسی :(12/2،دارالمعرفہ)
وکذا فی الھندیہ:(5/287،رشیدیہ)
وکذا فی مجمع الانھر :(4/158،المنار)
وکذا فی البحر الرائق:(8/308،310،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیہ:(17/396،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃالحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:26

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔