سوال

ایک مسئلہ دریافت کرنا تھا وہ یہ کہ میاں بیوی کا جھگڑا ہوا جس کے نتیجے میں غصہ میں آ کر شوہر “محمد سجاد ”نے اپنی بیوی کو بذریعہ اسٹام تحریری طلاق دی ہے ،اور یہ واقعہ 2016/11/7 کا ہے ،اسٹام کی نقل استفتاء کے ساتھ بھیج دی ہے ۔واضح فرما دیں کہ کتنی طلاق ہوئیں اور دوبارہ اکٹھے رہنے کی صورت ہو سکتی ہے یا نہیں ؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

صورت مسئولہ میں بعض علماء کرام کے نزدیک تحریر کے الفاظ“مسمات مذکوریہ کوطلاق دے کر ”سے ایک طلاق اور “آزاد کر دیا ”سے دوسری طلاق واقع ہو گئی اس طرح ان کے نزدیک دو طلاقیں ہو گئیں ۔
اوربعض علماء کرام کے نزدیک“مسمات مذکوریہ کوطلاق دے کر”سے ایک طلاق واقع ہو گئی اور “آزاد کر دیا ”اور“وہ مجھ پر حرام ہے”سے کوئی طلاق واقع نہ ہو گی کیونکہ یہ الفاظ گویا کہ طلاق کا ثمرہ اورنتیجہ بیان کرنےکےلیےیا طلاق کے حکم میں مزید سختی اور شدت پیدا کرنے کے لیے بولے گئے ہیں ۔
ہمارا رجحان بھی اسی طرف ہے کہ صورت مسئولہ میں “آزاد کر دیا ”اور“وہ مجھ پر حرام ہے ”سے مزید طلاق تو واقع نہ ہو گی البتہ یہ الفاظ رجعی کوبائن سے بدل دیں گے کیونکہ عموما طلاق دینے والایہ الفاظ مزید طلاق دینے کے لیے استعمال نہیں کرتا بلکہ سابقہ الفاظ کی نئی تعبیریا ان کا حکم اور سختی کے بیان کے لیے استعمال کرتا ہے ۔
لہذا ہماری ناقص رائے کے مطابق صورت مسئولہ میں صرف ایک طلاق بائن ہو گی ۔اور باہمی رضا مندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے ۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیۃ للشیخ فرید الدین عالم بن العلاء
وان طلق امراتہ الحرۃواحدۃثم قال لھا “انت علی حرام ”ینوی ثنتین لا تصح ھذہ النیۃ ،لان الحرمۃ الغلیظۃ لا تحصل بھا بل بھما وبما تقدم ،ففی ھذا مجرد نیۃالعدد ، ولو قال لھا بعد ما طلقھا واحدۃ “انت علی حرام ”ونوی الثلاث تصح النیۃ و تقع تطلیقتان اخریان ،نص علی ھذا محمد رحمہ اللہ ، وان نوی الطلاق فی قولہ “انت علی حرام ”ولم ینوالعدد فھی واحدۃ،وان لم ینو الطلاق فھو یمین نوی الیمین او لم ینو ،لان تحریم الحلال یمین غیر ان الیمین فی الزوجات ایلاء،فان قربھا کان علی علیہ الکفارۃ ،وان لم یقربھا حتی مضت اربعۃ اشھر بانت بالایلاء،فی الواقعات :وان لم ینو شیئا فایلاء ،وقیل ھو الطلاق للعرف وبہ یفتی ، وفی تجنیس خواہر زادہ : والفتوی علی انہ یقع الطلاق البائن ،وان لم ینو لغلبۃ استعمال ھذہ اللفظۃ فی ھذہ البلاد ۔”
(الفتاوی التاتار خانیۃ :4/448،م:فاروقیۃ)
(کذا فی البحر الرائق:3/500/501،م:رشیدیہ)
(کذا فی تنویر الابصارمع شرحہ :4/485/486/487،م:رشیدیہ)
(کذا فی الھدایۃ:2/348،م:رشیدیہ)
(کذا فی رد المحتار :4/519،م:رشیدیہ)
(کذا فی الفقہ الحنفی:2/170،م:الطارق )
(کذا فی تبیین الحقائق :2/212،م:امدادیہ)
کذا فی الفتاوی الولوالجیۃ:(2/14،الحرمین الشریفین)

واللّٰہ تعالٰی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللّٰہ عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
22/3/1440،2018/12/1
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:55

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔