سوال

ایک آدمی کسی کام کی غرض سے اپنے گھر سے نکلا اور اس کا ارادہ ہے کہ میں دو جگہ پر جاؤں گا ،ایک جگہ اس کے گھر کے قریب ہے اور دوسری جگہ اس کے گھر سے دور ہے ،مثلا وہ شخص بنگہ حیات سے 50 کلو میٹر کا سفر طے کر کے ساہیوال آیا پھر ساہیوال سے 45 کلو میٹر کا سفر طے کر کے پاکپتن گیا وہاں کام مکمل کرنے کے بعد وہ اپنے گھر بنگہ حیات آگیا جو پاکپتن سے 20 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے ،کیا وہ دوران سفر مسافر شمار ہو گا ؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

صورت مسئولہ میں وہ مسافر شمار ہو گا اور قصر کرے گا ۔

لما فی الھندیہ: (1/138،رشیدیہ)
فاذا قصد بلدۃ والی مقصدہ طریقان احدھما مسیرۃ ثلاثۃ ایام لیالیھا والآخر دونھا فسلک الطریق الابعد کان مسافرا عندنا ھکذا فی فتاوی قاضی خان وان سلک الاقصر یتم کذا فی البحر الرائق
وفی الدر المختار للحصکفی رحمہ اللہ : (2/726،رشیدیہ)
ولو لموضع طریقان احدھما مدۃ السفر ولآخر اقل ،قصر فی الاصل لا الثانی.
وکذا فی خلاصہ الفتاوی :(1/198،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق لابن نجیم :(2/228،رشیدیہ)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/492،فاروقیہ)
وکذا فی اللباب للشیخ عبد الغنی:(1/110،قدیمی)
وکذا فی المحیط البرھانی :(2/384،دار احیاء تراث)
وکذا فی الجوھرۃ النیرۃ:(1/216،قدیمی)
وکذا فی البنایہ فی شرح الھدایہ:(3/4،رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:190

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔