سوال

میں نے ملتان کے ایک دکاندار ،مثلا :اکرم سے کوئی چیز خریدی ،جب کہ میں خود ڈیرہ غازی خان میں ہوں۔میں یہی چیز کسی دوسرے شخص مثلا ناصر کو فروخت کرناچاہتا ہوں،اورناصر ملتان والے دکاندار یعنی اکرم سے یہ چیز وصول کر لے گا ۔اگر میں اکرم کو اپنا وکیل بنادوں کہ وہ میری طرف سے اس چیز پر قبضہ کر لے اورپھر مجھے اطلاع کر دے کہ اس نے میری طرف سے اس چیز پر قبضہ کر لیا ہے ،پھر میری اجازت سے وہ چیز ناصر کو فروخت کر دے ۔تو یہ جائز ہے یانہیں ؟

جواب

الجواب باسم ملھم الصواب

یہ طریقہ نا جائز ہے ۔کیونکہ بیچنے والا ،خریدار کی طرف سے قبضہ کا وکیل نہیں بن سکتا ،اس کے جواز کی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ آپ دوسرے خریدار یعنی ناصر کو پہلے اپنا وکیل بنا لیں کہ وہ آپ کی طرف سے اس چیز پر قبضہ کرلے ،اورپھر آپ کو اطلاع کر ے اب آپ وہ چیز ناصر کو فروخت کریں اور اس وقت ناصر اس چیز پر اپنے لیے قبضہ کر لے ۔

لما فی فقہ البیوع للشیخ محمد تقی العثمانی مد ظلہ: (1/182،معارف القرآن )
واشترط معظم الفقھاء لصحۃ البیع تعدد العاقدین ۔فلا یجوز ان یکون الشخص الواحد عاقدا من الجانبین۔وھذا انما یتصور ان کان اصیلافی جانب ،ونائبا عن الآخر فی جانب آخر ،فیتم الایجاب بصفتہ اصیلا،والقبول بصفتہ نائبا
ولما فی البدائع الصنائع : (2/489،رشیدیہ)
ولان حقوق البیع اذا کانت مقتصرۃ علی العاقد ،وللبیع احکام متضادۃ من التسلیم والقبض والمطالبۃ،فلو تولی طرفی العقد لصار الشخص الواحد مطالبا ومطلوبا ومسلما ومتسلما ،وھذا ممتنع.
وکذا فی الفتاوی التاتار خانیہ:(12/268،269،فاروقیہ) وکذا فی الصحیح لمسلم :(2/16،رحمانیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:15/4،5،داراحیاء تراث) وکذافی مجلہ الاحکام العدلیہ:(59،قدیمی)
وکذافی فقہ البیوع :(2/1189،معارف القرآن ) وکذافی الھدایہ:(3/77،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(4/394،رشیدیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:24

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔