الجواب باسم ملھم الصواب
آج کل متعدد آن لائن گیمیں چل رہی ہیں اورہرایک کی صورت حال دوسری سے عموما ًمختلف ہوتی ہے ،جبکہ سوال میں کوئی تفصیل مذکور نہیں اس لیے ایک اصولی جواب دیا جا رہا ہے کہ صورت مسئولہ میں اگر کھیلنے والے سے کسی قسم کی رقم وصول نہیں کی جاتی (عموما ً ایسی چیزوں میں اکاؤنٹ بنانے یا رجسٹریشن وغیرہ کے نام پر رقم وصول کی جاتی ہے)تو اس گیم پر ملنے والا انعام جائز ہے،کیونکہ اس میں ایک طرف سے شرط ہے،لہذا یہ سود اورقمار میں داخل نہیں۔لیکن اگر ایسی گیم میں کوئی خلاف شرع کام ہو ،مثلاً فحاشی و عریانی ،میوزک اورنا محرمو ں کو دیکھنا وغیرہ ،یا اس میں مشغولیت اور انہماک کی وجہ سے نمازوں میں غفلت وغیرہ، تو یہ گیم کھیلنا جائز نہ ہو گا ۔اگر ایسی کوئی بات نہ ہو تو بھی عموماً ایسی گیمیں وقت اور اچھی صلاحیتوں کے ضیاع کا سبب بنتی ہیں ،اس لیےان سے احتراز کرنا چاہیے۔اور ایسے کھیلوں کی طرف توجہ کرنی چاہیے جو جسمانی اور دماغی صحت میں معاون ثابت ہوں ۔
لما فی جامع الترمذی : (2/506 ،رحمانیہ)
عن ابی ھریرہ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :من حسن اسلام المرء ترکہ ما لا یعنیہ
و فی تنویر الابصار وشرحہ علی رد المحتار :(9/664،665،رشیدیہ)
حل الجعل )وطاب ،لا انہ یصیر مستحقا .ذکرہ البرجندی وغیرہ،وعللہ البزازی بانہ لا یستحق بالشرط شیئ لعدم العقد والقبض ومفادہ :لزومہ بالعقد کما یقول الشافعیۃ،فتبصر (ان شرط المال )فی المسابقۃ (من جانب واحد وحرم لو شرط)فیھا (من الجانبین )لانہ یصیر قمارا (الا اذا ادخلا ثالثا)محللا (بینھما )
وفی کنز الدقائق : (9/359،360،رشیدیہ)
“وحرم شرط الجعل من الجانبین لا من احد الجانبین
وکذا فی الھندیہ:(6/545،رشیدیہ)
وکذا فی کنز العما ل:(15/12،رحمانیہ)
وکذا فی المعجم الکبیر للطبرانی:(2/14،دارالکتب )
وکذا فی المحیط البرھانی:( 8/14،دار احیاء تراث)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(18/73،فاروقیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:( 5/442،الطارق)
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(24/128،علوم اسلامیہ)
وکذا فی المجمع الانھر:(4/216،المنار )
وکذا فی تبیین الحقائق:(6/227،امدادیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الحسن ساہیوال
17/6/1440،2019/2/23
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:176