الجواب باسم ملھم الصواب
گولیاں کھیلنے میں چونکہ عموماً دونوں جانب سے شرط ہوتی ہے،اس لیے یہ قمار (جوا)ہونے کی وجہ سے حرام ہے ،اور چونکہ ان گولیوں کا اکثر استعمال جوے کے لیے ہی ہوتا ہے اس لیے ان کی خرید و فروخت بھی جائز نہیں ہے ،اگر جانبین سے شرط نہ ہو تو بھی بے فائدہ اور بے مقصد کھیل ہونے کی وجہ سے یہ کھیل کراہت سے خالی نہیں ۔
لما فی المحیط البرھانی :(8/14،داراحیاءتراث)
فان شرطوا الجعل من الجانبین فھو حرام ۔۔۔وھذا ھو القمار بعینہ۔۔۔فاذا کان المال مشروطامن الجانبین کان قمارا والقمار حرام، ولان فیہ تعلیق تملیک المال بالخطر،وانہ لا یجوز
وفی الفتاوی التاتارخانیہ:(18/73،فاروقیہ)
“فان شرطواالجعل من الجانبین فھوحرام،وصورۃ ذالک ……..ھذا ھوالقمار بعینہ والقمار حرام.”
وکذا فی مصنف لابن ابی شیبہ:(5/290،دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(9/645،رشیدیہ)
وکذا فی المعجم الکبیرللطبرانی:(2/14،دارالکتب العلمیہ)
وکذافی کنزالعمال:(15/98،رحمانیہ)
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(35/269،علوم اسلامیہ)
وکذا فی الفقہ الحنفی:(5/442،الطارق)
واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
26/6/1440،2019/3/3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:45