سوال

میری ساری آمدنی سال میں ایک دفعہ میرے پاس آتی ہے ،اور میرے کئی عزیزوں نے مجھے اپنے اپنے اکاؤنٹ استعمال کرنے کا اختیار دیا ہے ،سال کے دورانیے میں ،میں ان رشتہ داروں کی رقوم استعمال کرتا رہتا ہوں اور سال مکمل ہونے پر جب میری آمدنی آتی ہے تواس سے ان کی رقوم واپس کر دیتا ہوں اور کھاتے صاف کرلیتا ہوں ۔دریافت طلب بات یہ ہے کہ میں زکوۃ اپنی کل آمدنی سے ادا کروں گا یا رشتہ داروں کے قرضے ادا کرنے کے بعد باقی رقم کی زکوۃ ادا کروں گا ؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

قرض ادا کرنے کےبعد جو آمدنی بچے، اگر وہ بقدر نصاب ہو تو اس کی زکوۃ دینا فرض ہے ۔

لما فی بدائع الصنائع :
“ومنھا :ان لا یکون علیہ دین مطالب بہ من جھۃ العباد عندنا فان کان فانہ یمنع وجوب الزکاۃ بقدرہ حالا کان او مؤجلا۔”
(بدائع الصنائع :2/83،م:رشیدیہ)
وفی الفقہ الاسلامی وادلتہ:
“قال الحنفیۃ: الدین الذی لہ مطالب من جھۃ العباد یمنع وجوب الزکاۃ سواء اکان للہ کزکاۃ وخراج (ضریبۃ الارض )،ام کان لانسان ،ولو دین کفا لۃ ۔”
(الفقہ الاسلامی وادلتہ :3/1807،م:رشیدیہ)
(کذا فی تنویر الابصار وشرحہ:ردالمحتار ،3/208،209،210،م:رشیدیہ)
(کذا فی تبیین الحقائق :1/252،253،254،م:امدادیہ)
(کذا فی رد المحتار :3/210،م:رشیدیہ)
(کذافی المبسوط للسرخسی :2/160،م:دارالمعرفہ)
(کذافی القدوری :اللباب ،1،136،م:قدیمی)
(کذا فی اللباب :1/136،م:قدیمی)
(کذا فی المحیط البرھانی :3/228،م:دار احیاءتراث)
(کذا فی الفتاوی التاتار خانیہ:3/231،م:فاروقیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
1/5/1440،2019/1/8
جلد نمبر:17 فتوی نمبر:70

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔