سوال

ایک شخص سہراب کمپنی کے سائیکلو ں کا ڈیلر ہے،نئی سائیکل پر کمپنی کلیم کی سہولت دیتی ہے ،اگر کوئی خریدار کلیم لے کر آئے تو ڈیلر اسے کمپنی کی طے کردہ اجرت بتاتا ہے ،اور طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ یہ چیزکمپنی سے منگوائی جاتی ہے جس میں عموما 5 دن لگ جاتے ہیں ۔یہ ڈیلر اپنے خریدار سے کہتا ہے کہ تم کمپنی سے کلیم کروانا چاہتے ہو تو مثلا ًاس کام کے 200روپے لگیں گے اور 5دن بعد یہ کام ہو گا اور اگر تم ابھی یہ کام کروانا چاہتے ہو تو میں اپنے پاس موجود سامان سے یہ کام کر دیتا ہوں اور نئی چیز ڈال دیتا ہوں لیکن 400 روپے لگیں گے۔اگر خریدار راضی ہو جائے تو یہ کام درست ہے یا نہیں ؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

مذکورہ بالا معاملہ درست ہے۔

لما فی الفقہ الاسلامی : (5 /3765،رشیدیہ)
بیع المساومۃ:ھوالبیع بای ثمن کان من غیر نظر الی الثمن الاول الذی اشتری بہ الشیئ،وھو البیع المعتاد
وفی بدائع الصنائع: ( 4/320،رشیدیہ)
بیع المساومۃ وھو مبادلۃ المبیع بای ثمن اتفق،وبیع المرابحۃ وھو مبادلۃ المبیع بمثل الثمن الاول وزیادۃ ربح
وکذافی الفقہ الاسلامی: (5 /3371،3305،رشیدیہ)
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ: (37 /159،علوم اسلامیہ)
وکذافی بدائع الصنائع:(4/407،رشیدیہ)
وکذافی فقہ البیوع:(1/542،معارف القرآن)
وکذافی الفقہ الحنفی:(4/22،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
26/2/2019-20/6/1440
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:28

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔