سوال

ایک طالب علم نے اپنے داخلہ فارم پر لگانے کے لیے تصویریں بنوانی ہیں ،دو تصویریں مطلوب ہیں جبکہ دکاندار چار سے کم نہیں بناتا ،اگر بناتا ہے تو پیسے پورے لیتا ہے ،مذکورہ صورت میں تصویریں بنوانا کیسا ہے؟نیز احتیاط کی وجہ سے زائد تصویریں بنوا کر اپنے پاس رکھنا جائز ہے یا نہیں؟تاکہ ضرورت کے وقت دوبارہ نہ بنوانی پڑیں ،کیونکہ آج کے دور میں اکثر جگہ پر تصویروں کی ضرورت پڑتی ہے بعض دفعہ جلدی ہوتی ہے۔

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

بامر مجبوری ضرورت کی حد تک بنوانا جائز ہے اگر آئندہ بھی ان تصاویر کی ضرورت کے واضح امکانات ہیں تو زیادہ تصاویر بنوانے کی بھی گنجائش ہےورنہ نہیں۔

لما فی الاشباہ والنظائر:(87 ،قدیمی)
الضرورات تبیح المحظورات ،ومن ثم جاز اکل المیتۃ عندالمخمصمۃ،واساعۃ اللقمۃ بالخمر،……ما ابیح للضرورۃ یقدر بقدرھا
وفی تکملہ فتح الملہم:(4 /164،دارالعلوم کراتشی)
الصورۃعندالحاجۃ: ھذاھوحکم الصورۃفی الاصل. اما اتخاذالصورۃالشمسیۃ للضرورۃ اوالحاجۃ کحاجتھا فی جوازالسفر،وفی التاشیرۃ وفی البطاقات الشخصیۃ،او فی مواضع یحتاج فیھا الی معرفۃ ھویۃ المرء،فینبغی ان یکون مرخصا فیہ .فان الفقھاء رحمھم اللہ تعالی استثنوا مواضع الضرورۃمن الحرمۃ

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
1440/6/20-2019/2/26
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:22

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔