سوال

ایک شخص نے دو رکعت نفل میں مثلا” صلاۃ الحاجۃ “کی نیت کی،نماز کے دوران اس کا وضو ٹوٹ گیا ۔اب وہ شخص جب ان نفلوں کی قضاکرے گا تو واجب کی نیت کرے گایا نفل کی؟اور اگر نفل کی کرے گا تو کیا اس میں جملہ نیتیں مثلا ”صلاۃ التوبۃ“”صلاۃالحاجۃ “وغیرہ کر سکتا ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

نفل کی قضا کی نیت کرے گااور جملہ نوافل کی نیتیں بھی کرسکتاہے۔

لما فی الاشباہ والنظائر:(45 ،قدیمی)
” وﺃما اذا نوی نافلتین کما اذا نوی برکعتی الفجر التحیۃوالسنۃﺃجزﺃت عنھما .”
وفی الھدایہ:(1/131،رشیدیہ)
“ومن شرع فی نافلۃ ثم افسدھا قضاھا ،وقال الشافی رحمہ اللہ لاقضاء علیہ لانہ متبرع فیہ ولا لزوم علی المتبرع ،ولنا ان المؤدی وقع قربۃ فیلزم الاتمام ضرورۃ صیانۃ عن البطلان .”
وکذافی ردالمحتار :(2/563،574،555،رشیدیہ)
وکذا فی تنویر الابصار وشرحہ علی ردالمحتار:( 2/574،555،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(2/100،101،رشیدیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(2/5،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/220،داراحیاءتراث)
وکذا فی الفتاوی التاتارخانیہ:(2/288،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/6/1440-2019/2/28
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:36

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔