الجواب حامداً ومصلیاً
اللہ تعالی کا ارشاد ہے :{قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكی لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ۞ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ …..}[النور:30،31]ان آیات میں تمام مردوں اور عورتوں کو یہ حکم دیا گیا کہ اپنی نظروں کی حفاظت کریں نگاہیں نیچی رکھیں ،اور دوسری جگہ ارشاد ہے:{وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا……} [الإسراء: 32]زنا کے قریب مت جاؤ۔نا محرم کو دیکھنا ،ان سے معاملات کرنا اور بات چیت کرنا توزنا کے قریب لے جانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں،اور متعدد احادیث میں بھی غیر محرم کی طرف دیکھنے سے منع کیا گیا ہے اور اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں اورسے آنکھوں کا زنا شمار کیا گیا ہےاوربد نظری کرنےکرانے والے اللہ کی لعنت کے مستحق قرار دیئے گئے ہیں۔اور عورت کا بازار میں دکان لگانے اور لوگوں کےساتھ خریدوفروخت کرنے میں اس بات کا پایا جانا لازمی اوریقینی بات ہے جوکہ ناجائز اورحرام ہے۔
البتہ اگر کوئی سخت مجبوری ہوکہ والدین بوڑھے ہیں یابیوہ ہے اور کمانے والا کوئی نہیں تو اس سخت مجبوری کے تحت اگر مردوں کے ساتھ اختلاط سے بچتے ہوئے مکمل پردے کا لحاظ رکھ کر کوئی آسان سا کسب معاش کیا جائے تو جائز ہے،ورنہ جائز نہیں۔
لما فی القرآن المجید
“قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ۞ وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ “.
[النور: 30، 31]
” وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا.” [الإسراء: 32]
“وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ذَالِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ.”
[الأحزاب: 53]
وکذافی ردالمحتار: (5 /228،رشیدیہ)
قال فی الھدایۃ:واما المتوفی عنھا زوجھا فلانہ لا نفقۃ لھا فتحتاج الی الخروج نھارا لطلب المعاش وقدیمتد الی ان یھجم اللیل،ولا کذالک المطلقۃ،لان النفقۃ دارۃعلیھا من مال زوجھا.قال فی الفتح:والحاصل ان مدار حل خروجھابسبب قیام شغل المعیشۃ فیتقدر بقدرہ،فمتی انقضت حاجتھا لایحل لھا بعدذالک صرف الزمان خارج بیتھا
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(40/355،علوم اسلامیہ)
ذھب الحنفیۃ فی الصحیح والمالکیۃ والشافعیۃالی ان نظر المراۃ الی ای عضو من اعضاء الرجل الاجنبی یکون حراما اذاقصدت بہ التلذذ او علمت او غلبت علی ظنھا وقوع الشھوۃ او شکت فی ذالک،بان کان احتمال حدوث الشھوۃ وعدم حدوثھا متساویین لان النظر بشھوۃ الی من لا یحل بزوجیۃ او ملک یمین نوع زنا،وھو حرام عند جمیع الفقھاء.
وکذا فی الصحیح للبخاری:(2/450،رحمانیہ)
وکذا فی السنن الکبری:(7/159،دارالکتب)
وکذا فی الموسوعہ الفقھیہ:(40/343،344،علوم اسلامیہ)
وکذا فی تنویرالابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(9/610،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(4/185،رشیدیہ)
وکذا فی الھندیہ:(5/327،رشیدیہ)
وکذا فی المبسوط للسرخسی:(10/152،دارلمعرفہ)
وکذا فی ردالمحتار:(9/610،رشیدیہ)
وکذا فی تنویرالابصاروشرحہ:(5/228،229،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(2/230،رشیدیہ)
وکذا فی کنزالعمال:(16/163،رحمانیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
22/6/1440-2019/2/28
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:42