سوال

ہمارے ہاں امام صاحب نے عشاء کی نماز میں” { وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا}“کی جگہ ” { وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ کفرُوا}“پڑھ دیا تو اس نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب حامداً ومصلیاً

اس سے نماز فاسد ہو گئی ہے،دوبارہ پڑھی جائے۔

لما فی الفتاوی التاتارخانیہ:(2 /96،97،فاروقیہ)
وفی الظھیریۃ:ومن قرأ فی صلاتہ مکان قولہ”اولئک اصحاب الجنۃ “”اولئک اصحاب النار“او قرأ”ان الکافرین فی جنات النعیم“”مکان المتقین“او قرأ”الاان حزب اللہ ھم الکافرون“مکان”المفلحون“تفسد صلاتہ عند ابی حنیفۃومحمد رحمھمااللہ ……وفی الغیاثیۃ:ومن العلماءمن یوجب الفسادلقبح المعنی
وفی الفتاوی قاضی خان علی الھندیہ:(1/149،رشیدیہ)
وکذا لو قرا ”واذکر فی الکتاب ادریس “اذکر فی الکتاب ابلیس تفسد صلاتہ.وکذا لو قرﺃ ”انی اخاف ان یمسک عذاب من الرحمن “عذاب من الشیطان تفسد صلاتہ.”ومن یؤمن باللہ ویعمل صالحا یدخلہ جنات“قرا ومن یکفر باللہ تفسد صلاتہ.
وکذافی الھندیہ: (1/80،رشیدیہ)
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(2/1038،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/67،داراحیاءتراث)
وکذا فی الدرالمختارعلی ردالمحتار:(2/478،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(2/473،474،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(1/268،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الحسن ساہیوال
28/6/1440-2019/3/5
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:48

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔