سوال

ہمارا یہ زمانہ مادیت پسندی کا زمانہ ہے ہر شخص مادی چیزوں میں اپنے کو دوسروں پر بڑا جتلانے کی کوشش کرتا ہے،خاص طور پر شادی بیاہ اوردوسری تقریبات کے اندر اس کا مشاہدہ عام ہے۔ایسے حالات میں بہت سارا ”پرائمری کلاس “طبقہ اپنی عزت بچانے اور نام بنانے کےلیے شادی بیاہ کی تقریبات میں دلہا اور دلہن کےلیے فاخرہ جوڑے کرائے پر حاصل کرتا ہے،اسی طرح دلہن کے زیورات جو کہ کبھی سونے کے ہوتے ہیں اور کبھی بناوٹی(آرٹی فیشل)بھی کرائے پر لیتے ہیں،تو کیا یہ زیورات اور کپڑے کرائے پر لینا اور ان کا دینا درست ہے یا نہیں؟شرعی حکم سے مطلع فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

یہ چیزیں کرائے پر لینا دینا جائز ہے،لیکن تکبر،دکھلاوا،دھوکہ اور فضول خرچی کےلیے ان کا استعمال جائز نہیں۔

لما فی الفقہ الاسلامی:(5/3838،رشیدیہ)
أحکام إجارۃ المنافع: إجارۃ المنافع کإجارۃالدور والمنازل والحوانیت والضیاع،والدواب للرکوب والحمل،والثیاب والحلی للبس،والأوانی والظروف للإستعمال،ویجوز العقد علی المنافع المباحۃ.
وفی المحیط البرھانی:(11/392،داراحیاءتراث)
“إذا إستاجرالرجل ثوبا لیلبسہ الی اللیل بأجر معلوم،فھو جائز.”
وکذا فی ردالمحتار:(9/589،580،رشیدیہ) وکذا فی البحرالرائق:(7/522،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(11/504،داراحیاءتراث) وکذا فی بدائع الصنائع:(4/16،رشیدیہ)
وکذا فی حاشیہ التاتارخانیہ:(18/112،فاروقیہ) وکذا فی التاتارخانیہ:(18/122،فاروقیہ)
وکذا فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(4/177،رشیدیہ) وکذا فی الفقہ الحنفی:(5/354،الطارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
26/7/1440-2019/4/3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:143

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔