سوال

نومولود کے کان میں جو اذان دی جاتی ہےاس کے بارے میں تقریرات رافعی میں ہے کہ ”ویلتفت فیھما بالصلاۃ لجھۃالیمین وبالفلاح لجھۃالیسار“(شامیہ:2/66،دارالمعرفہ)جبکہ اعلاءالسنن کے حاشیہ میں حضرت فرماتے ہیں کہ” وما ذکرہ بعض الفقھاء من تحویل الوجہ فی ھذاالأذان یمینا وشمالا لم أجد لہ أصلا،ولا یصح قیاسہ علی التحویل فی الأذان للصلاۃ لأنہ للاعلام ،ولا حاجۃ الی مثل ھذا الاعلام ھھنا،کما لا یخفی“(اعلاءالسنن:17/123،ادارۃالقرآن)۔برائے مہربانی دیگر دلائل کی روشنی میں صحیح بات کی راہنمائی فرمائیں۔

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

جیساکہ اقامت کو اذان پر قیاس کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہےکہ جس طرح اذان میں دائیں اور بائیں التفات ہےاسی طرح اقامت میں بھی ہوگا،اسی طرح بچے کے کان میں اذا ن دیتے وقت بھی التفات کیا جائے گاکیونکہ یہ التفات اور کھڑے ہونا اور قبلہ کی طرف منہ کرنا یہ سب اذان کی سنتیں ہیں،جیسا کہ اگر کوئی شخص بیابان میں اکیلا ہو اور وہ اذان کہے تو اس کےلیے بھی یہی حکم ہے کہ اذان کی سنتوں کی رعایت رکھتے ہوئے اذان دے گا ۔اسی طرح بچے کے کان میں اذان دیتے وقت بھی ان سنتوں کی رعایت کی جائے گی سوائے اس کے کہ آواز بہت بلند نہ کی جائے گی اور نہ ہی کانوں میں انگلیاں ڈالی جائیں گی۔

لما فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(1/185،186،رشیدیہ)
قولہ بصلاۃ وفلاح)لف و نشر مرتب یعنی أنہ یلتفت یمینا بالصلاۃ وشمالا بالفلاح وھوالصحیح(قولہ ولو وحدہ)ولایخل المنفرد بشیئ من سننہ،نحر،وأشار بہ الی ردقول الحلوانی أنہ لا یلتفت لعدم الحاجۃ الیہ،والجواب ما أشار الیہ الشارح بقولہ لأنہ سنۃ الأذان مطلقا(قولہ مطلقا)للمنفرد وغیرہ والمولود وغیرہ
وفی الھندیہ:(1/56،رشیدیہ)
واذا انتھی الی الصلاۃ والفلاح حول وجھہ یمینا وشمالا وقدماہ مکانھما سواء صلی وحدہ أو مع الجماعۃ وھوالصحیح حتی قالوا فی الذی یؤذن للمولود ینبغی أن یحول وجھہ یمنۃ ویسرۃ عند ھاتین الکلمتین ھکذا فی المحیط
وکذ افی تنویرالابصار وشرحہ مع ردالمحتار:(2/66،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(2/66،رشیدیہ)
وکذا فی تقریرات الرافعی علی ردالمحتار:(2/66،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/449،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(2/88،89،داراحیاءتراث)
وکذا فی البنایہ:(2/99،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
26/7/1440-2019/4/3
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:134

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔