سوال

جس مسجد میں امام اور مؤذن مقرر نہ ہوں وہاں اگر جماعت کے وقت سے پہلے دو آدمی اذا ن دے کر جماعت کروا لیں تو کیا حکم ہے؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

جس مسجد میں امام اور مؤذن مقرر نہ ہوں اس میں اذان و اقامت کے ساتھ دوسری جماعت نہ صرف یہ کہ جائز ہے بلکہ افضل ہے۔

لما فی حاشیہ الطحطاوی علی الدر:(1/240،رشیدیہ)
“(قولہ لا فی مسجد طریق)ای مسجد علی قارعۃطریق بحر(قولہ او مسجدلاامام لہ ولا مؤذن)ای ویصلی الناس فیہ فوجا فوجا فالافضل ان یصلی کل فریق باذان واقامۃ علی حدۃ بحر.”
وکذا فی الفقہ الاسلامی:(2/1182،رشیدیہ)
وکذا فی الدرالمختارعلی ردالمحتار:(2/342،رشیدیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(2/342،رشیدیہ)
وکذا فی البحرالرائق:(1/605،رشیدیہ)
وکذا فی منحہ الخالق علی البحر:(1/605،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/373،الحقانیہ)
وکذا فی البنایہ:(2/383،رشیدیہ)
وکذا فی اعلاءالسنن:(4/279،ادارہ القرآن)

واللہ اعلم بالصواب
محمدسلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
27/7/1440-2019/4/4
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:134

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔