الجواب باسم ملہم الصواب
کافروں کےبارے میں فرمایا گیا ”{حَتَّى إِذَا جَاءُوهَا فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا}“کہ ان کے پہنچنےکےبعدجہنم کےدروازے کھولے جائیں گے پہلے سے کھلے ہوئے نہ ہوں گے،تاکہ وہ لوگ وہاں کھڑے ہو کر انتظار کریں ،یہ ان کی اہانت ،تذلیل اور رسوائی کےلیے ہے۔اور متقیوں کے بارے میں فرمایا گیا ”{حَتَّى إِذَا جَاءُوهَا وَفُتِحَتْ أَبْوَابُهَا}“کہ جنت کے دروازے ان کےلیے پہلے سے کھل چکے ہوں گے ،اس سے مقصود اللہ کی طرف سےان کا اعزاز واکرام ہے کہ مہمان کے آنے سے پہلے ان کےلیے دروازے کھول دیے جائیں،اور جنتیوں کو دور سے ہی جنت کے مناظر اور اس کی خوشبوئیں آنا شروع ہو جائیں گی۔
لما فی الجامع لاحکام القرآن للقرطبی:(15/285،داراحیاء تراث)
وقد قیل:ان زیادۃالواو دلیل علی ان الابواب فتحت لھم قبل ان یاتوا لکرامتھم علی اللہ تعالی،والتقدیر حتی اذا جاءوھا وابوابھا مفتحۃ،بدلیل قولہ:{جنات عدن مفتحۃ لھم الابواب}وحذف الواو فی قصۃ اھل النار ،لانھم وقفوا علی النار وفتحت بعد وقوفھم اذلالا وترویعالھم
وفی تفسیر روح المعانی:(24/32،34،داراحیاء تراث)
حتی اذا جاءوھافتحت ابوابھا}لیدخلوھاوکانت قبل مجیئھم غیر مفتوحۃ فھی کسائر ابواب السجون لا تزال مغلقۃ حتی یاتی اصحاب الجرائم الذین یسجنون فیھا فتفتح لیدخلوھا فاذا دخلوھا اغلقت علیھم ،……….{حتی اذا جاءوھاوفتحت ابوابھا}وقرئ بالتشدید،والواو للحال والجملۃ حالیۃ بتقدیر قد علی المشہور،ای جاءوھا وقد فتحت لھم ابوابھا
وکذا فی الکشاف للزمخشری:(4/147،من منشورات البلاغہ)
وکذا فی نظم الدرر:(6/479،دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی الاکلیل :(6/348،دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی تفسیر ابی السعود:(5/425،الوحیدیہ)
وکذا فی تفسیر البحر المحیط:(7/425،دارالکتب العلمیہ)
وکذا فی تفسیرالبغوی:(4/88،89،دارالمعرفہ)
وکذا فی التفسیر الکبیرللرازی:(9/478،479،480،علوم اسلامیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
10/8/1440-2019/4/16
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:38