سوال

اگر کوئی شخص سجدہ سہو کرتے وقت بجائے سلام پھیرنے کے سجدہ میں چلا جائے تو کیا وہ دونوں سجدوں کے بعد تشہد شروع کر دے گا یا پہلے سلام پھیرے گا پھر تشہد پڑھے گا؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

ایسی صورت میں سجدوں کے بعد تشہد پڑھے اور آخر میں سلام پھیر دے۔

لما فی حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح:(462،قدیمی)
قولہ:(وقیل یجب فعلہ بعد السلام)فعلیہ لا یجوز قبلہ لتأدیتہ قبل وقتہ کذا فی الشرح.قولہ:(ما رویناہ)من أنہ صلی اللہ علیہ وسلم سجد بعد التسلیم،وھو لا یقتضی السنیۃ،بل یحتمل الوجوب وعبارۃ الشرح وجہ الظاہر أن فعلہ حصل فی محل مجتھد فیہ فلم یحکم بفسادہ اذ المعنی المعقول من شرعیتہ،وھوالجبر لا ینتفی بوقوعہ قبل السلام ،ولکنہ خلاف السنۃ عندنالما رویناہ،قال فی الھدایۃ:والخلاف فی الاولویۃ،ولاخلاف فی الجواز قبل السلام،وبعدہ لصحۃ الحدیث فیھما
وکذا فی جامع الترمذی:(1/198،رحمانیہ)
وکذا فی مراقی الفلاح :(462،قدیمی)
وکذا فی تنویرالابصاروشرحہ علی ردالمحتار:(2/651،652،رشیدیہ)
وکذا فی البحر الرائق:(2/163،رشیدیہ)
وکذا فی فتح القدیر:(1/517،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(1/384،385،الحقانیہ)
وکذا فی التاتارخانیہ:(2/386،فاروقیہ)
وکذا فی بدائع الصنائع:(1/417،418،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
17/7/1440-2019/3/25
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:124

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔