سوال

دو آدمیوں نےسودا کیا ،مثلا سو کاٹن ،فی کاٹن ڈیڑھ سو کے حساب سے ،بائع نے سو کاٹن کی قیمت وصول کر لی ،اب خریدنےوالا وقتاًفوقتاًاپنا مال لے جا رہا ہے حتی کہ 3 ماہ تک مشتری غائب رہا مال لینے نہیں آیا تو بائع نے اس کے غائب ہونے کو موت سمجھا اس لیے کہ رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا ،اور بقیہ مال تقریبا 40ً کاٹن اسی حساب سے دوسری جگہ فروخت کیا ،اس لیے کہ مال جہاں رکھا تھا اس گودام کا مالک گودام خالی کرنا چاہ رہا تھا ۔(نوٹ)جبکہ کسی ذریعے سے بعد میں یہ پتہ چلا کہ یہی مشتری مارکیٹ آتا جاتا رہا لیکن بائع کے سامنے نہیں آیا اس لیے کہ اب مال سستا تھا اس نے بقیہ مال نہیں لینا چاہا۔پھر 3ماہ بعد مشتری آیا اور بائع سے کہا کہ میرا مال دو۔بائع نے کہا کہ آپ کا مال ہم نے بیچ دیا آپ آئے نہیں اور گودام کا مالک گودام خالی کرنے کا کہ رہا تھا ہم مجبور تھے۔آپ کے جو پیسے ہم نے لیے تھے جن کا مال آپ نہیں لے گئے اپنے مال کے وہ پیسے واپس لے لو ۔لیکن مشتری انکار کر رہا ہےکہ مجھے یا تو میرا وہ مال واپس دو یا اس کی جو قیمت آج کل ہے وہ دے دو (اس لیے کہ اب تو مہنگاہے)بائع اس کو کہ رہا ہے کہ یہ نا جائز ہے اور مشتری مطالبہ کر رہا ہے۔اب یہ وضاحت فرما دیں کہ مشتری کا یہ مطالبہ جائز ہے؟

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

بائع نے مشتری کا جو سامان بیچ دیا ہے اگر اس سامان کو واپس کرنا کسی طریقے سے ممکن ہو تو وہی سامان واپس کرنا ضروری ہو گا،ورنہ اس جیسا سامان خرید کر دےدے،اور اگر اس جیسا سامان بھی نہ ملتا ہو تو جتنے کا بیچا تھا اتنی رقم واپس کر دے۔

لما فی البحرالرائق:(8/198،199،رشیدیہ)
“ویجب رد عینہ فی مکان غصبہ او مثلہ ان ھلک وھو مثلی،وان انصرم المثلی فقیمتہ یوم الخصومۃ وما لا مثل لہ فقیمتہ یوم غصبہ.
وفی تنویرالابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(8/536،537،رشیدیہ)
وکذا لو خلطھا المودع)بجنسھا او بغیرہ(بمالہ)اومال آخر.ابن کمال (بغیر اذن)المالک(بحیث لاتتمیز)الا بکلفۃ کحنطۃ بشعیر ودراھم جیاد بزیوف.مجتبی(ضمنھا)لاستھلاکہ بالخلط لکن لا یباح تناولھاقبل اداء الضمان،……..(ولو انفق بعضھا فرد مثلہ فخلطہ بالباقی)خلطا لا یتمیز معہ(ضمن)الکل لخلط مالہ بھا.
وکذا فی البحرالرائق:(7/469،رشیدیہ)
وکذا فی اعلاء السنن:(16/65،ادارہ القرآن)
وکذا فی الھدایہ:(3/271،رشیدیہ)
وکذا فی القدوری:(143،144،الخلیل)
وکذا فی اللباب:(2/111،112،قدیمی)
وکذا فی مجمع الانھر:(3/471،المنار)
وکذافی بدائع الصنائع:(5/316،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(3/182،183،الحقانیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمدسلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
10/8/1440-2019/4/16
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:37

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔