الجواب باسم ملہم الصواب
بائع نے مشتری کا جو سامان بیچ دیا ہے اگر اس سامان کو واپس کرنا کسی طریقے سے ممکن ہو تو وہی سامان واپس کرنا ضروری ہو گا،ورنہ اس جیسا سامان خرید کر دےدے،اور اگر اس جیسا سامان بھی نہ ملتا ہو تو جتنے کا بیچا تھا اتنی رقم واپس کر دے۔
لما فی البحرالرائق:(8/198،199،رشیدیہ)
“ویجب رد عینہ فی مکان غصبہ او مثلہ ان ھلک وھو مثلی،وان انصرم المثلی فقیمتہ یوم الخصومۃ وما لا مثل لہ فقیمتہ یوم غصبہ.
وفی تنویرالابصار وشرحہ علی ردالمحتار:(8/536،537،رشیدیہ)
وکذا لو خلطھا المودع)بجنسھا او بغیرہ(بمالہ)اومال آخر.ابن کمال (بغیر اذن)المالک(بحیث لاتتمیز)الا بکلفۃ کحنطۃ بشعیر ودراھم جیاد بزیوف.مجتبی(ضمنھا)لاستھلاکہ بالخلط لکن لا یباح تناولھاقبل اداء الضمان،……..(ولو انفق بعضھا فرد مثلہ فخلطہ بالباقی)خلطا لا یتمیز معہ(ضمن)الکل لخلط مالہ بھا.
وکذا فی البحرالرائق:(7/469،رشیدیہ)
وکذا فی اعلاء السنن:(16/65،ادارہ القرآن)
وکذا فی الھدایہ:(3/271،رشیدیہ)
وکذا فی القدوری:(143،144،الخلیل)
وکذا فی اللباب:(2/111،112،قدیمی)
وکذا فی مجمع الانھر:(3/471،المنار)
وکذافی بدائع الصنائع:(5/316،رشیدیہ)
وکذا فی کتاب الفقہ:(3/182،183،الحقانیہ)
واللہ اعلم بالصواب
محمدسلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
10/8/1440-2019/4/16
جلد نمبر:19 فتوی نمبر:37