سوال

زنا کی وجہ سے جو بچہ پیدا ہو اس کا خرچہ کس کے ذمہ ہے اور کیا وہ زانی یا مزنیہ یا مزنیہ کے شوہر کا وارث ہو گا یا نہیں؟شرعی حکم واضح فرما دیں۔

جواب

الجواب باسم ملہم الصواب

ولدالزنا کا خرچہ ماں کے ذمے ہو گا ،اور ماں کا ہی وارث ہوگا۔

لما فی جامع الترمذی :(2/476،رحمانیہ)
عن عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال:ایما رجل عاھر بحرۃاو امۃ فالولد ولد زنا لا یرث ولا یورث ……والعمل علی ھذا عند اھل العلم ان ولد الزنا لا یرث من ابیہ
وفی البحرالرائق:(9/391،رشیدیہ)
ویرث ولدالزنا واللعان من جھۃ الام فقط)لان نسبہ من جھۃالاب منقطع ولایرث بہ،ومن جھۃالام ثابت فیرث بہ امہ واختہ من الام
وکذا فی التاتارخانیہ:(5/428،فاروقیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(4/353،داراحیاءتراث)
وکذا فی الدرالمختار علی ردالمحتار:(5/167،رشیدیہ)
وکذا فی سنن ابی داؤد:(2/55،رحمانیہ)
وکذا فی ھامش الترمذی:(2/476،رحمانیہ)
وکذا فی ردالمحتار:(10/554،رشیدیہ)
وکذا فی المحیط البرھانی:(23/364،داراحیاءتراث)
وکذا فی بدائع الصنائع:(3/449،رشیدیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمد سلیم اللہ عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃالحسن ساہیوال
27/7/1440-2019/4/4
جلد نمبر:18 فتوی نمبر:132

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔