سوال

ہمارے گاؤں میں تقریباً ہر آدمی کے پاس بندوق ہے اور ان میں سے بعض کی قیمت نصاب کی مقدار سے بھی زیادہ ہے، کوئی حفاظت کے لیے اور کوئی شکار کے لیے رکھتا ہے اور ان پر سالہا سال گزر گئے ہیں، ان پر زکوۃ ہے یا نہیں؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

استعمال کی غرض سے رکھے ہوئے ہتھیار پر زکوۃ نہیں ہے، اگرچہ ان کی قیمت نصاب کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔

لمافی کتاب الفقہ علی المذاھب الاربعة:(1/506،حقانیہ)
لاتجب الزکاۃ فی دور السکنی و ثیاب البدن واثاث المنزل ودواب الرکوب وسلاح الاستعمال ومایتحمل بہ من الاوانی اذا لم یکن من الذھب او الفضۃ ۔
وفی الھندیة:(1/172،رشیدیہ)
فلیس فی دور السکنی و ثیاب البدن وأثاث المنزل و دواب الرکوب وعبید الخدمۃ وسلاح الاستعمال زکوۃ۔
وکذافی اللباب فی شرح الکتاب:(1/136،قدیمی)
وکذافی فتح القدیر:(2/173،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(3/213،دارالمعرفہ)
وکذافی الھدایة:(1/299،بشری)
وکذافی الفقہ الاسلامی وادلتہ:(3/1795،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(3/173،فاروقیہ)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
2،9،1443/2022،4،4
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:91

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔