الجواب حامداًومصلیاً
اگر اس پلاٹ کا مالک پہلے سے صاحب نصاب ہے تو باقی مال کا سال پورا ہونے پر اس پلاٹ کی موجودہ قیمت پر بھی زکوۃ ادا کرے گا اور اگر ا س پلاٹ کی وجہ سے صاحب نصاب بنا ہے تو سال گزرنے کے بعد پلاٹ کی کرنٹ ویلیو پر زکوۃ دے گا اور اگر صاحب نصاب نہیں ہے تو اس پر زکوۃ فرض نہیں ہے۔
لمافی الہندیة:(1 /179 ،رشیدیہ)
الزکوۃ واجبۃ فی عروض التجارۃ کائنۃ ما کانت اذا بلغت قیمتھا نصابا من الورق والذھب…. و تعتبر القیمۃ عند حولان الحول بعد ان تکون قیمتھا فی ابتداء الحول مائتی درھم من الدراھم الغالب علیھا الفضۃ
وفی المختصر الفقہ الحنفی:(233،بشری)
رجل یملک شیئا من الذہب او الفضۃ ای اقل من النصاب و عندہ عروض التجارۃ تضم قیمۃ العروض الی الذھب والفضۃ فان بلغت قیمتھا جمیعا نصاب الذھب او الفضۃ تجب علیھا الزکوۃ.
وکذافی الھدایة :(1/212،میزان)
وکذافی الفتاو السراجیہ :(137،زمزم)
وکذافی المحیط البرھانی :(3/163،ادارة القرآن)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة :(3/164،فاروقیہ)
وکذافی الموسوعة الفقہیة :(23/271،علوم اسلامیہ)
واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
12/5/1443،2021/12/17
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:7