سوال

محمد عاشر عظیم کی شادی 2019/11/8 کو ہوئی لیکن کچھ عرصے بعد با وجہ ناچاکی ،ناراضگی ہو گئی اور وہ روٹھ کر ماں کے گھر چلی گئی صلح کی بہت کوشش کی لیکن صلح نہ ہوئی اور پھر محمد عاشر نے عدالت سے طلاق کا پہلا نوٹس مؤرخہ 2021/07/26 کوبھیج دیا، جس میں لکھا ہوا تھا ” کہ میں اپنی بیوی کو ایک طلاق دیتا ہوں ، ایک ماہ بعد دوسری طلاق دے دوں گا ، پھر دو ماہ بعد تیسری طلاق دے دوں گا “لیکن اس کی بیوی حاملہ تھی اور انھوں نے نوٹس وصول بھی نہیں کیا ، پھر دوسرا نوٹس طلاق کا مؤرخہ 2021/11/20 کو بھیج دیا ،جس میں لکھا ہوا تھا “کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہوں ” جبکہ بچہ کی پیدائش مؤرخہ 2021/09/ 18 کو ہوئی اس کے بعد بیوی مؤرخہ2021/11/29 کو گھر واپس آ گئی ، آپ سے گزارش ہے کہ فتوی دیا جائے کہ اب کتنی طلاقیں ہو گئیں ہیں اور دوبارہ اکٹھے ہونے کے بارے میں فتوی جاری کیا جائے۔

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

جب شوہر نے پہلا نوٹس بھیجا جس میں ایک طلاق درج ہے ، تو اسی وقت بیوی کو ایک طلاق ہو گئی ، اگرچہ بیوی نے نوٹس وصول نہیں کیا، چونکہ بیوی حاملہ تھی تو بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی اس کی عدت پوری ہو گئی اور بائنہ ہو گئی اور دوسرا نوٹس چونکہ عدت کے بعد بھیجا گیا ، اسی لئے دوسرے نوٹس سے مزید کوئی طلاق واقع نہ ہوئی ، لہذا صورت مسؤلہ میں ایک طلاق بائنہ واقع ہوئی ہے، اب اگر اکٹھے رہنا چاہیں تو دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ نکاح کر کے رہ سکتے ہیں ۔

لمافی الشامیة:( 3/232 ،ایچ۔ایم۔سعید)
وحل طلاقھن) ای الآیسۃ و الصغیرۃ والحامل (عقب وطء)لان الکراھۃ فیمن تحیض لتوھم الحبل وھو مفقود ھناہ۔ “
وفی بدائع الصنائع :(3/304،رشیدیہ)
اما عدۃ الحبل فھی مدۃ الحمل وسبب وجوبھا الفرقۃ او الوفاۃ والاصل فیہ قولہ تعالی (واولات الحمل اجلھن ان یضعن حملھن) ای انقضااجلھن ان یضعن حملھن
وفی الشامیة:(3/400،ایچ۔ایم۔سعید)
“والرجعی لا یزال الملک الا بعد مضی العدۃ۔”
وفی اللباب:(2/182،قدیمی)
“واذا کان الطلاق بائنا دون الثلاث فلہ ان یتزوجھا فی عدتھا و بعد انقضاء عدتھا لان حل المحلیۃ باق لان زوالہ معلق بالطلقۃ الثالثۃ فینعدم قبلہ ۔”
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی :(310،بشری)
لا تصح الرجعۃ بعد مضی العدۃ فان مضت العدۃ و لم یراجعھا فیھا فلیس لہ ان یراجعھا بعدہ و یجوز ان ینکحھا نکاحا جدیدا برضاھا ان کان طلقھا اقل من ثلاث
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(4/148،فاروقیہ)
وکذافی الھندیة:(1/472،رشیدیہ)
وکذافی الھدایہ :(2/132،بشری)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید :(2/136،طارق)
وکذافی فتح الباری :(9/604،قدیمی)

واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
25/4/1443،2021/12/1
جلد نمبر:25 فتوی نمبر:119

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔