سوال

ایک شخص شرعی مسافت طے کر کے ایک شہر کے نواحی علاقے میں آ گیا ہے اور اس علاقے کی مختلف بستیوں میں چالیس دن رہنے کی نیت کی ہے، جبکہ بستیوں کا درمیانی فاصلہ ایک سے تین کلو میٹر تک کاہے لیکن کسی بھی بستی میں پندرہ دن پورے نہیں گزارنے تو اس صورت میں یہ شخص مقیم شمار ہو گا یا مسافر؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

اگر ان میں سےہر بستی، دوسری سے الگ اور مستقل حیثیت رکھتی ہے اور دوسری بستی کا ذیلی حصہ نہیں ہے اور سوال سے بھی بظاہر ایسا لگ رہا ہے تو یہ شخص مسافر شمار ہو گا۔

لمافی الھندیة:(1/139،رشیدیہ)
لا یزال علی حکم السفر حتی ینوی الاقامۃ فی بلدۃ او قریۃ خمسۃ عشر یوما او اکثر۔۔۔۔ ولو نوی الاقامۃ خمسۃ عشر یوما فی موضعین فان کان کل منھما اصلا بنفسہ نحو مکۃ ومنی والکوفۃ والحیرۃ لایصیر مقیما وان کان احداھما تبعا للآخر حتی تجب الجمعۃ علی سکانہ یصیر مقیما۔
وفی بدائع الصنائع:(1/269،رشیدیہ)
وان کان مصرین او قریتین او احدھما مصر والاخر قریۃ لا یصیر مقیما لانھما مکانان متباینان حقیقۃ وحکما
وکذافی اللباب:(1/111،قدیمی)
وکذافی المبسوط:(2/108،دارالمعرفہ)
وکذافی البحر الرائق:(2/232،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق:(1/212،امدادیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(2/499،فاروقیہ)
وکذافی المحیط البرھانی:(2/391،ادارة القران)
وکذافی الخانیة علی ھامش الھندیة:(1/166،رشیدیہ)
وکذافی الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجدید:(1/311،طارق)

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
9،9،1443/2022،4،11
جلد نمبر:27 فتوی نمبر:141

شیئر/ پرنٹ کریں

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔