سوال

ہمارے علاقے میں ایک نہر ہے جو” کنڈم “نہر کے نام سے موسوم ہے، وہ نہر پکی اینٹوں سے بنائی گئی تھی،اب جب اس نہر کی صفائی کی جاتی ہے تو مٹی کے ساتھ بہت سی اینٹیں بھی نکلتی ہیں، حکومت کی طرف سے ان کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں ہوتا، نہر کی ان اینٹوں کے متعلق شرعی تفصیل معلوم کرنا ہے۔1: کنڈم نہر کی اینٹیں خود نکالنا یا کسی دوسرے آدمی سے خریدنا ۔2:کنڈم نہر کی اینٹوں کو مسجد یا مدرسہ کے لیے وقف کرنا۔3:حکومت کی طرف سے کنڈم نہر کی صفائی ہوتی ہے، اس دوران مشین ان اینٹوں کو مٹی کے ساتھ باہر پھینک دیتی ہےان کو اٹھا کر استعمال میں لانا۔4:حکومت زمین کی الاٹمنٹ کر دیتی ہے، اس میں نہر کا رقبہ بھی الاٹمنٹ میں شامل ہو جاتا ہے، اور جس کے نام رقبہ کی الاٹمنٹ ہوتی ہے، وہ اس کی رقم بھی ادا کردیتا ہے، اس حصے کی اینٹوں کا کیا حکم ہے؟5:الاٹمنٹ ہو گئی ہے، لیکن ابھی تک حکومت کو رقم ادا نہیں کی، اس صورت میں اس حصے کی اینٹوں کا کیا حکم ہے؟6:اسی طرح اس نہر کا بند بنایا گیا ہے، بعض جگہ سے وہ اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ لوگوں کی زمین اس میں آئی ہوئی ہے، تو کیا وہ لوگ بند کاوہ زائد حصہ ختم کرسکتے ہیں، اور اس زائد حصے میں ملنے والی اینٹیں استعمال کر سکتے ہیں ؟7:اگر کسی نے ان اینٹوں کو استعمال کر لیا یا ان کی شکل تبدیل کر دی مثلا ً ٹکڑےٹکڑے کر دیا تو اس کا کیا حکم ہے؟ رقم حکومت کے خزانے میں جمع کروانی ہو گی یا جس کے نام اس زمین کی الاٹمنٹ ہے اس کی ہو گی؟8:پرانی سرکاری عمارتوں کا ملبہ استعمال میں لانا، اگر استعمال کر لیا تو اس کے تدارک کی کیا صورت ہو گی؟9:اگر متعلقہ محکمہ میں رقم جمع کروانا ممکن نہ ہو تو کیا دوسرے محکمہ کے اکاؤنٹ میں رقم جمع کروا سکتے ہیں؟10:کیا یہ اینٹوں کی رقم کسی مستحق شخص پر حکومت کی طرف سے امداد کی نیت سے خرچ کر سکتے ہیں؟

جواب

الجواب حامداًومصلیاً

1،2،3

نہر کی اینٹیں حکومت کی ملکیت ہیں ، لہذا حکومت کی اجازت کے بغیر یہ اینٹیں خود نکالنا یا ان کی خریدو فروخت کرنا، یا ان کو مسجد یا مدرسہ میں وقف کرنا جائز نہیں۔

4،5

حکومت نہر کی زمین نہیں بیچتی، اگر حکومت نے کوئی اور ایسی زمین بیچی ہے، جس میں اینٹیں ہیں تو اگر ان اینٹوں سمیت بیچی ہے، تو خریدار وہ اینٹیں استعمال کر سکتا ہے، ورنہ نہیں۔
6

نہر کے بند میں لوگوں کی جو زمین آگئی ہے، اس کو قانونی کاروائی کر کے واپس لیا جاسکتا ہے، اس حصہ کی اینٹیں استعمال نہیں کر سکتےاور حکومت کو چاہیے کہ جن لوگوں کی زمین میں نہر کا بند بنایا گیا ہے، ان کو قیمت بھی ادا کر دے۔
7

اگر حکومت کی اینٹیں ہیں تو حکومت کو، ورنہ مالک کو اینٹوں کی قیمت دینا ہو گی۔
8،9،10

پرانی سرکاری عمارتوں کاملبہ ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں، اگر کسی نے استعمال کر لیا تو متعلقہ محکمہ میں رقم جمع کروانا ضروری ہے، اگر ایسا ناممکن ہو تو کسی بھی واسطہ سے دوسرے محکمہ میں جمع کروائی جا سکتی ہے، یہ رقم کسی اور کو دینا جائز نہیں۔

لمافی القرآن المجید:(البقرة،188)
ولا تأکلوا اموالکم بینکم بالباطل و تدلوا بھا الی الحکام لتأکلوا فریقا من اموال الناس بالاثم وانتم تعلمون
وفی فقہ البیوع:(2/1005،معارف القران)
ما کان مجرما علی المرأ لکونہ ملکا للغیر و ھو مثل المال المغصوب الذی ھو مقبوض بید الغاصب، متمیز عن املاکہ الاخری۔۔۔ انہ حرام للغاصب الانتفاع بہ او التصرف فیہ فیجب علیہ ان یردہ الی مالکہ او الی وارثہ بعد وفاتہ وان لم یمکن ذلک لعدم معرفۃ المالک او وارثہ او لتعذر الرد علیہ بسبب من الاسباب وجب علیہ التخلص منہ بتصدقہ عنہ من غیرنیۃ ثواب الصدقۃ لنفسہ و ھذا الحکم عام سواء أکان المغصوب عرضا ام نقداً
وفی شرح مجلة الاحکام:(1/98،عربیہ)
اذا اخذ احد مال الآخر بدون قصد السرقۃ ھازلا معہ او مختبرا غضبہ فیکون قد ارتکب الفعل المحرم شرعاً لان اللعب فی السرقۃ جد ،فعلی ذلک یجب ان ترد اللقطۃ التی تؤخذ بقصد امتلاکھا او المال الذی یؤخذ رشوۃ أو سرقۃ أوغصبا لصاحبھا عینا اذا کانت موجودۃ و بدلا فیما اذا استھلکت۔
وکذافی الھندیة:(5/349،رشیدیہ)
وکذافی الشامیة:(5/278،دار احیاءالتراث)
وکذافی السنن الکبری:(6/166، دار الکتب العلمیہ)
وکذافی الموسو عة الفقہیة:(8/244،257،علوم اسلامیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة:(18/343،فاروقیہ)

 

واللہ اعلم بالصواب
محمداحسن ابراہیم غفر لہ ولوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
29،6،1443،2022،2،2
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:95

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔