الجواب حامداًومصلیاً
اس شخص کا گھر کی خواتین کےساتھ جماعت کروانا، اکیلے نماز پڑھنے سے تو بہتر ہے، لیکن اگر دوسری مسجد میں جماعت ملنا ممکن ہو تو وہاں جانا زیادہ بہتر ہے۔
لمافی الھندیة:(1 /82 ،رشیدیہ)
اذا فاتتہ الجماعۃ لایجب علیہ الطلب فی مسجد آخر بلا خلاف بین اصحابنا لکن ان اتی مسجدا اخر لیصلی بھم مع الجماعۃ فحسن وان صلی فی مسجد حیہ وذکر القدوری انہ یجمع فی اھلہ و یصلی بھم
وفی المحیط البرھانی:(2/210، ادارة القرآن)
ولو فاتتہ الجماعۃ جمع باھلہ فی منزلہ لما روینا ان النبی علیہ الصلاۃوالسلام جمع باھلہ فی منزلہ حین انصرف من الصلح بعد ما فرغ الناس من الصلاۃ
وکذافی البدائع الصنائع :(1/385،رشیدیہ)
وکذافی الفتاوی التاتارخانیة :(2/280،فاروقیہ)
وکذافی البحر الرائق :(1/606،رشیدیہ)
وکذافی تبیین الحقائق :(1/133،امدادیہ)
وکذافی فتح القدیر :(1/353،رشیدیہ)
وکذافی المختصر فی الفقہ الحنفی :(142،بشری)
واللہ اعلم بالصواب
احسن ابراہیم غفر لہ و لوالدیہ
متخصص جامعۃ الحسن ساہیوال
14/5/1443،2021/12/19
جلد نمبر:26 فتوی نمبر:44